| جنت میں لے جانے والے اعمال |
اس سے پہلے حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت گزر چکی ہے جس میں یہ مضمون بھی تھا کہ'' سرمنڈواتے ہوئے تمہارے سر سے گرنے والا ہر بال قیامت کے دن تمہارے لئے نور ہوگا،''اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت میں یہ مضمون تھا کہ '' جہاں تک تمہارا سرمنڈوانے کی بات ہے تو تمہارے سر سے گرنے والے ہربال کے عوض تمہارے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اورتمہاراایک گناہ مٹادیا جاتا ہے۔'' (۸۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا ام الحصین رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور تقصیر کرانے( یعنی بال کٹوانے) والوں کے لئے ایک مرتبہ دعاکرتے ہوئے سنا ۔
(صحیح مسلم ،کتاب المناسک ،باب تفضیل الحلق علی التقصیر ،رقم ۱۳۰۳ ،ص ۶۷۷)
(۸۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دعا مانگی، ''اے اللہ عزوجل ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور تقصیر کرانے والوں کی بھی؟ ''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا فرمائی ، ''اے اللہ عزوجل سرمنڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور تقصیر کرانے والوں کی بھی؟''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا فرمائی ،''اے اللہ عزوجل ! سرمنڈوانے والوں کی مغفرت فرما۔ ''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور تقصیر کرانے والوں کی بھی؟''فرمایا ،''اور تقصیر کرانے والوں کی بھی ۔''
(صحیح بخاری ،کتاب الحج ، باب الحلق والتقصیرعند الا حلال ، رقم ۱۷۲۸ ، ج ۱ ، ص ۵۷۴)