Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
318 - 736
شیطا ن کو کنکر یاں مارنے کا ثواب
(۸۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ویسی ہی روایت منقول ہے جیسی روایت پچھلے صفحات میں حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے گزری ،لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اور جہاں تک تمہارے عرفات میں وقوف کرنے کی بات ہے تو اللہ عزوجل عرفات والوں پر تَجَلِّی فرماکرارشاد فرماتاہے،'' میرے بندے غبار آلودپراگندہ سر ہوکر میرے پاس ہروادی سے سفر کرکے آئے ہیں ۔''پھر ملائکہ کے سامنے ان پرفخر فرماتا ہے ، لہذا! اگر تمہارے گناہ ریت کے ذرّات ، آسمان کے ستاروں اور سمندر اور بارش کے قطروں کے برابر بھی ہوں تو اللہ عزوجل تمہاری مغفرت فرمادے گا اور تمہاراجمار کی رمی کرنا تووہ تمہارے لئے اپنے رب عزوجل کے پاس تمہارے محتاجی کے وقت کے لئے ذخیرہ ہے اورسرمنڈوانے میں تمہارے سر سے گرنے والے ہر بال کے عوض قیامت کے دن ایک نورہوگا اوررہا' بیت اللہ کا طواف کرناتو جب تم طو اف کر کے واپس لوٹو گے توتم اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاؤگے جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ۔''

(۸۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال کیا کہ'' شیطان کو کنکریاں مارنے میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟'' توآپ نے فرمایا،''اسے (یعنی کنکریوں کو)تم انتہائی ضرورت کے وقت اپنے رب عزوجل کے پاس پاؤگے۔''
 (طبرانی کبیر، مسند ابن عمر ،رقم ۱۳۴۷۹، ج۱۲، ص ۳۰۶)
(۸۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''تمہارا شیطان کو کنکریا ں مارنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور ہوگا۔''
( الترغیب والترہیب ،کتاب الحج ،باب فی رمی الجمار ،رقم ۴، ج۲، ص ۱۳۴)
(۸۸۱)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب حضرتِ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مناسک ِحج کی ادائیگی کے لئے آئے تو جمرہ عَقَبَہ کے پاس آپ کے سامنے شیطان آگیا ۔آپ علیہ السلام نے اسے سات پتھر مارے یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آپ علیہ السلام کااس سے سامناہوا توآپ نے اسے سات پتھر مارے یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا ،پھر جمرہ ثالثہ کے پاس آپ علیہ السلام کا اس سے سامنا ہوا تو آپ نے اسے سات پتھر مارے تو وہ زمین میں دھنس گیا۔''اس کے بعدمدنی آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' اور یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے جس کی تم پیروی کرتے ہو۔ ''
(المستد رک ،کتاب المناسک ،باب رمی الجمار ،رقم ۱۷۵۶، ج۲، ص ۱۲۲)
Flag Counter