| جنت میں لے جانے والے اعمال |
والے مظالم کو ان سے اٹھالیا ۔'' حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ ہمارے لئے خاص ہے ؟'' فرمایا،'' یہ تمہارے اور تمہارے بعد قیامت تک آنے والوں کے لئے ہے ۔''تو حضرتِ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،'' اللہ عزوجل کی رحمت بہت زیادہ اوربہت پاکیزہ ہے۔''
(التر غیب والترہیب ، کتاب الحج ، باب التر غیب فی الوقوف بعرفۃ والمزدلفۃ ، رقم ۷ ، ج ۳ ، ص ۱۳۰)
ایک روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل عرفات والوں پر فضل فرماتے ہوئے ملائکہ کے سامنے فخرفرماتاہے اورفرماتاہے،'' اے میرے فرشتو!میرے غبار آلود ،پراگندہ سر بندوں کو دیکھو جوہروادی سے سفر کرتے ہوئے میرے پاس حاضر ہوئے ہیں ، میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے انکی دعائیں قبول کیں اور ان کی مرغوب چیز کے بارے میں انکی سفارش قبول کی، ان میں سے بر ے لوگو ں کو اچھوں کی وجہ سے عطا کیا اور اچھو ں کو سوائے ان کے آپس کے لین دین کے جو کچھ انہوں نے مانگا 'عطا فرمادیا۔''
جب لوگ وقوف کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کی بارگا ہ میں رغبت ومطالبہ دہراتے ہیں تو اللہ عزوجل فرماتاہے ، ''اے میرے فرشتو! میرے بندے ٹھہرے رہے اور رغبت ومطالبہ کرتے رہے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے انکی دعائیں قبول فرمالیں اور ان کی مرغوب چیز کے بارے میں ان کی سفارش قبول فرما لی اور ان میں سے برے لوگوں کو اچھوں کی وجہ سے عطا فرمادیا اوران کے آپس کے مظالم کاضامن ہوگیا۔''(مجمع الزوائد ،کتاب الحج، با ب فضیلہ الوقوف الخ ،رقم ۵۵۲۹ ،ج۳،ص ۵۶۹)
(۸۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو مسلمان عرفہ کی رات موقف میں وقوف کرے پھر قبلہ کی طرف رخ کرکے سو مرتبہ
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شَیٍئ قَدِیْرٌ
پڑھے پھر سو مرتبہ
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد
پڑھے پھر سو مرتبہ یہ پڑھے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰیٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَعَلَیْنَا مَعَھُم ْ
''تو اللہ عزوجل فرماتاہے ،''اے میرے فرشتو ! میرے اس بندے کی جزا کیا ہے؟ اس نے میری پاکی بیان کی اور مجھے اپنا خدا ئے واحد تسلیم کیا اور میری عظمت وبڑائی بیان کی اور مجھے پہچان لیا اور میری تعریف بیان کی اور میرے نبی پر درود بھیجا، اے میرے فرشتو ! گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اسے بخش دیا اور اس کی شفاعت اس کے حق میں قبول فرمالی ،اگر میرا یہ بندہ مجھ سے سوال کرے تو میں موقف والوں کے حق میں اس کی شفاعت ضرورقبول فرماؤں گا۔''
( شعب الایمان ،باب المناسک ،فصل فضل الوقوف لعرفات ،رقم ۴۰۷۴، ج۳ ،ص ۴۶۳ )