Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
315 - 736
(۸۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عباس بن مِرْدَا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عرفہ کی رات اپنی امت کے لئے دعا مانگی تو جواب دیا گیا کہ'' میں نے ظالم کے علا وہ سب کی مغفرت فرمادی کیو نکہ میں مظلوم کا حق لینے کے لئے ظالم کی پکڑ ضرور فرماؤں گا۔''تو مومنین پر رحم وکرم فرمانے والے نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا،'' اے رب عزوجل! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت عطا فرمادے اور ظالم کو بخش دے۔'' توعرفہ کی رات اس کا جواب نہیں دیا گیا ۔

    صبح جب مزدلفہ پہنچے تو دوبارہ یہی دعامانگی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعاقبول فرمالی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مسکرانے لگے تو حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر قربان !یہ تو وہ وقت ہے جس میں آپ مسکرایا نہیں کرتے،اللہ عزوجل آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے ،آپ کیوں مسکرارہے ہیں؟ '' فرمایا،''جب اللہ عزوجل کے دشمن ابلیس کو پتا چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعاقبول فرماکر میری امت کی مغفرت فرمادی ہے تو وہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا اورآہ وفغاں کرنے لگا تو میں اس کی پریشانی کو دیکھ کر مسکرادیا ۔''
 (ابن ماجہ ،کتاب المناسک ، باب الدعا ء بعرفۃ ، رقم ۳۰۱۳ ، ج۳ ، ص ۴۶۶)
    (مؤلف فرماتے ہیں کہ)علامہ بیہقی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں جنہیں ہم نے'' کتاب البعث'' میں ذکرکیا ہے۔اگر اس حدیث پاک کو شواہد کی بنا پر صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس میں حجت ہے ورنہ اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہی اس حدیث کی تائید کے لئے کافی ہے،
وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ
ترجمہ کنزالایمان :اور کفر سے نیچے جوکچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتاہے۔(پ 5 ، النساء : 48 )

(۸۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عرفات میں وقوف فرمایا تو سورج غروب ہونے والا تھا ۔ آپ نے حضرتِ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا،''اے بلال! لوگوں کو میرے لئے خاموش کراؤ۔'' حضرتِ سیدنا بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاموش ہوجاؤ تولوگ خاموش ہوگئے ۔پھرآپ نے فرمایا ،''اے لوگو !ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھے رب عزوجل کا سلام پیش کرکے کہا کہ اللہ عزوجل نے عرفات اور مشعرحرام والوں کی مغفرت فرمادی اور ان کے آپس میں ایک دوسرے پر کئے جانے
Flag Counter