(۸۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عباس بن مِرْدَا س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عرفہ کی رات اپنی امت کے لئے دعا مانگی تو جواب دیا گیا کہ'' میں نے ظالم کے علا وہ سب کی مغفرت فرمادی کیو نکہ میں مظلوم کا حق لینے کے لئے ظالم کی پکڑ ضرور فرماؤں گا۔''تو مومنین پر رحم وکرم فرمانے والے نبی کریم رؤف ورحیم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا،'' اے رب عزوجل! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت عطا فرمادے اور ظالم کو بخش دے۔'' توعرفہ کی رات اس کا جواب نہیں دیا گیا ۔
صبح جب مزدلفہ پہنچے تو دوبارہ یہی دعامانگی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعاقبول فرمالی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مسکرانے لگے تو حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ پر قربان !یہ تو وہ وقت ہے جس میں آپ مسکرایا نہیں کرتے،اللہ عزوجل آپ کو ہمیشہ مسکراتا رکھے ،آپ کیوں مسکرارہے ہیں؟ '' فرمایا،''جب اللہ عزوجل کے دشمن ابلیس کو پتا چلا کہ اللہ عزوجل نے میری دعاقبول فرماکر میری امت کی مغفرت فرمادی ہے تو وہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا اورآہ وفغاں کرنے لگا تو میں اس کی پریشانی کو دیکھ کر مسکرادیا ۔''