(۸۷۰)۔۔۔۔۔۔ امّ المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اللہ عزوجل عرفہ کے دن تمام دنوں سے زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے اور ان پر قریب سے تَجَلِّی فرماتاہے پھران بندوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے کہ یہ کیا چاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔الخ ''
(صحیح مسلم ،کتاب الحج ،باب فضل الحج والعمرۃ ،رقم ۱۳۴۸ ،ص ۷۰۳)
(۸۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' اگر یہ جمع ہونے والے لوگ جانتے کہ کس حال میں احرا م سے نکلے ہیں تو مغفرت کے بعد فضل ملنے پر خوش ہوجاتے ۔''
(طبرانی کبیر، مسند ابن عباس ،رقم ۱۱۰۲۲ ،ج۱۱، ص ۴۵)
(۸۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ذوالحجہ کے دس دنوں سے کوئی دن افضل نہیں ۔''ایک شخص نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دس دن افضل ہیں ..یا.. راہِ خدا عزوجل میں اتنے ہی دن جہادکرنا ؟ ''فرمایا،'' یہ دن راہِ خداعزوجل میں دس دن جہاد کرنے سے افضل ہیں اور اللہ عزوجل کے نزدیک کوئی دن عرفہ کے دن سے افضل نہیں، اس دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر( اپنی شان کے لائق) نزول فرماتاہے اور آسمان والوں کے سامنے زمین والوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتاہے کہ ''میرے ان بندوں کی طرف دیکھو پراگندہ سر غبار آلود ہوکر سورج کی تپش برداشت کرتے ہوئے ،ہروادی سے سفر کرتے ہوئے میرے پاس رحمت کی امید لے کرآئے ہیں حالانکہ انہوں نے میرا عذاب نہیں دیکھا۔'' پھر عرفہ کے دن سے زیادہ بندے کسی اور دن میں جہنم سے آزادنہیں کئے جاتے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن ، کتاب الحج ، باب الوقو ف بعرفۃ والمزدلفۃ ، رقم ۳۸۴۲ ، ج ۶ ،ص ۶۲)
ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ''میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے ان کی مغفرت فرمادی۔'' تو ملائکہ عرض کرتے ہیں ،'' ان میں فلاں فلاں بدکار بند ے بھی ہیں۔''اللہ عزوجل فرماتا ہے ،'' میں نے انہیں بھی بخش دیا ۔''
(الترغیب والترھیب ، کتاب الحج ، باب الترغیب فی وقوف العرفۃ ، رقم ۱ ، ج ۲ ، ص ۱۲۸)