| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ستّر غلام آزادکرنے کے برابر ہے اور رہاتیرا عرفہ کی رات میں وقوف کرناتو اللہ عزوجل اس رات میں آسمان دنیا پر( اپنی شان کے لائق) نزول فرماکر ملائکہ کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرماتاہے کہ میرے بندے گردآلود ہوکر ہرگھاٹی سے میری جنت کی امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئے ہیں، اگر ان کے گناہ ریت کے ذروں یا بارش کے قطروں یا سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوئے تو میں ضرور ان گناہوں کو مٹادوں گا ،پھر فرماتا ہے کہ تم اور جن کی تم نے سفارش کی سب مغفرت یافتہ ہوکر لوٹ جاؤ اور تمہاراجمرات کی رمی کرناتو تمہاری پھینکی ہوئی ہر کنکری ہلاکت خیز گناہ کبیرہ میں سے ایک گناہ کا کفارہ ہے اور تمہاری قربانی اللہ عزوجل کے پاس تمہارے لئے ذخیرہ ہے اور تمہار ے سر منڈانے میں ہر بال کے عوض تمہارے لئے ایک نیکی ہے اور اس کے عوض تمہاراایک گناہ مٹادیاجاتاہے اور اس کے بعد اگر تم بیت اللہ کا طواف کروتو تمہارا کوئی گناہ باقی نہ رہے گا اور ایک فرشتہ آکر اپنے ہاتھ تمہارے کندھوں پر رکھ کر کہے گا کہ نئے سرے سے عمل شروع کروکیونکہ تمہارے پچھلے گناہ معاف کردئیے گئے ہیں۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب لحج ،باب فضل الحج ،رقم۵۶۴۸، ج۳، ص ۵۹۹)
(۸۶۷)۔۔۔۔۔۔ امام طبرانی حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن اس میں یہ الفاظ ہيں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' اورجب تم بیت عتیق کی نیت سے کھڑے ہو تو تمہارے اور تمہاری سواری کے ہر قدم کے بدلے تمہارے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک درجہ بلند کردیا جاتاہے اورجب تم عرفہ میں وقوف کرتے ہو تو اللہ عزوجل اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے ،''اے میرے فرشتو ! میرے بندے کس لئے آئے ہیں؟'' فرشتے عرض کرتے ہیں ،''تیری رضااورجنت کی طلب میں آئے ہیں۔'' تو اللہ عزوجل فرماتا ہے،''میں اپنے آپ کو اور اپنی مخلوق کو گواہ بناتاہوں کہ میں نے ان کی مغفرت فرمادی اگرچہ ان کے گناہ زمانے کے دنوں یا ٹیلوں کی ریت کے ذروں کے برابرہوں۔''اوررہا تمہارا جمار کی رمی کرنا تو اللہ فرماتا ہے،
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿17﴾
ترجمہ کنزالایمان :توکسی جی کونہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔(پ 21،السجدۃ:17) اور اپنے سر کو منڈوانے میں زمین پرگرنے والا ہر بال قیامت کے دن تمہارے لئے نور ہوگا اور رخصت ہوتے وقت بیت اللہ کا طواف کرنے کی وجہ سے تم گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جس طرح اس دن تھے جب تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا۔''
(طبرانی اوسط ،مسند عبادۃ بن صامت ،رقم ۲۳۲۰ ،ج۲، ص ۱۳)
(۸۶۸)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،