(۸۶۵)۔۔۔۔۔۔ امام اوزاعی علیہ الرحمۃبنی مخزوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ان دس دنوں میں عمل کرنا راہِ خدا عزوجل میں دن میں روزہ رکھنے اور رات میں حفاظت کرتے ہوئے جہاد کرنے کے برابر ہے سوائے اس شخص کے جسے رتبۂ شہادت مل جائے۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الحج ،باب فی الموقوف بعرفۃ وفضل یوم عرفۃ ،رقم ۸ ،ج۲، ص ۱۲۸)
حج کیلئے وقوفِ عرفہ کرنے والے کا ثواب
(۸۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ منیٰ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھاکہ آپ کی خدمت میں ایک انصاری اور ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہماحاضرہوئے اور سلام عرض کرنے کے بعد عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم آپ سے سوال پوچھنے کیلئے حاضرہوئے ہیں ۔'' آپ نے ارشاد فرمایا،'' اگرتم چاہو تو میں تم دونوں کو بتادوں کہ تم کیاسوال پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو تومیں رک جاؤں اور تم مجھ سے سوال کرو؟''ان دونوں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ خود ہی بتادیں ۔''تو ثقفی صحابی نے انصاری صحابی سے کہا تم سوال کرو تو اس نے عر ض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ خود ہی ارشادفرما دیجئے۔''
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' تم مجھ سے گھر سے بیت الحرام کی نیت سے نکلنے اور اس کے ثواب اور طواف کے بعد کی دورکعتوں اور ان کے ثواب اور صفا ومروہ کی سعی اور اس کے ثواب اور عرفہ میں وقوف اور اس کے ثواب اور رمیئ جمار اور اس کے ثواب اور اپنی قربانی اور عرفہ سے واپسی کے ثواب کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو۔''اس نے عرض کیا،'' اس ذات پاک کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں صرف یہی سوال کرنے آیا ہوں ۔''آپ نے فرمایا ،'' جب تو اپنے گھر سے بیت الحرام کاقصد کرکے نکلا تھا تو تیری اونٹنی کے ہر قدم کے بدلے تیرے لئے ایک نیکی لکھی گئی اور تیرا ایک گناہ مٹادیا گیا اور تیرا طواف کے بعد دورکعتیں ادا کرنااولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے اور تیرا صفا ومروہ کی سعی کرنا