Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
312 - 736
علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حج کے دس ایام میں اللہ کی عبادت اس کے نزدیک دیگر ایام کی نسبت زیادہ محبو ب ہے اور ان میں سے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان میں سے ہر رات کا قیام شب قدر میں قیام کے برابر ہے۔''
 (ترمذی ،کتا ب الصوم،باب ماجاء فی العمل فی ایام العشر ،رقم ۷۵۸، ج۲، ص ۱۹۲)
 (۸۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حج کے دس دنوں میں سے ہردن کو ہزاردنوں کے برابر اور عرفہ کے دن کو دس ہزار دنوں کے برابرسمجھا جاتا تھا۔''
   (شعب الایمان ،باب فی الصیام ، تخصیص یوم عر فۃ بالذکر ، رقم ۳۷۴۴ ، ج۳، ص ۳۵۸)
 (۸۶۵)۔۔۔۔۔۔ امام اوزاعی علیہ الرحمۃبنی مخزوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ان دس دنوں میں عمل کرنا راہِ خدا عزوجل میں دن میں روزہ رکھنے اور رات میں حفاظت کرتے ہوئے جہاد کرنے کے برابر ہے سوائے اس شخص کے جسے رتبۂ شہادت مل جائے۔''
 (الترغیب والترہیب ،کتاب الحج ،باب فی الموقوف بعرفۃ وفضل یوم عرفۃ ،رقم ۸ ،ج۲، ص ۱۲۸)
حج کیلئے وقوفِ عرفہ کرنے والے کا ثواب
(۸۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ منیٰ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھاکہ آپ کی خدمت میں ایک انصاری اور ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہماحاضرہوئے اور سلام عرض کرنے کے بعد عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم آپ سے سوال پوچھنے کیلئے حاضرہوئے ہیں ۔'' آپ نے ارشاد فرمایا،'' اگرتم چاہو تو میں تم دونوں کو بتادوں کہ تم کیاسوال پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو تومیں رک جاؤں اور تم مجھ سے سوال کرو؟''ان دونوں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ خود ہی بتادیں ۔''تو ثقفی صحابی نے انصاری صحابی سے کہا تم سوال کرو تو اس نے عر ض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ خود ہی ارشادفرما دیجئے۔''

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' تم مجھ سے گھر سے بیت الحرام کی نیت سے نکلنے اور اس کے ثواب اور طواف کے بعد کی دورکعتوں اور ان کے ثواب اور صفا ومروہ کی سعی اور اس کے ثواب اور عرفہ میں وقوف اور اس کے ثواب اور رمیئ جمار اور اس کے ثواب اور اپنی قربانی اور عرفہ سے واپسی کے ثواب کے بارے میں سوال کرنے آئے ہو۔''اس نے عرض کیا،'' اس ذات پاک کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں صرف یہی سوال کرنے آیا ہوں ۔''آپ نے فرمایا ،'' جب تو اپنے گھر سے بیت الحرام کاقصد کرکے نکلا تھا تو تیری اونٹنی کے ہر قدم کے بدلے تیرے لئے ایک نیکی لکھی گئی اور تیرا ایک گناہ مٹادیا گیا اور تیرا طواف کے بعد دورکعتیں ادا کرنااولادِ اسماعیل علیہ السلام میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے اور تیرا صفا ومروہ کی سعی کرنا
Flag Counter