| جنت میں لے جانے والے اعمال |
اچھے اعمال کا گواہ بنا ؤ کیونکہ یہ قیامت کے دن شفاعت کریگا اس کی شفا عت قبول کی جائے گی ،اس کی دوزبانیں، اور دو ہونٹ ہونگے جن کے ذریعے یہ اپنا استلام کرنے والوں کے حق میں گواہی دے گا ۔''
(المعجم الاوسط،رقم ۲۹۷۱ ،ج۲ ،ص ۱۸۸)
(۸۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو کَعْبَۃُ اللہ شریف سے ٹیک لگا کر فرماتے ہوئے سنا،''رکن (اسود)اور مقام ابراہیم علیہ السلام جنت کے یاقُوْتوں میں سے دو یاقُوت ہیں ،اگر اللہ عزوجل ان دونوں کا نور مٹانہ دیتا تو یہ مشرق ومغرب کی ہر چیز کو روشن کردیتے ۔''
(جامع الترمذی ، کتاب الحج ، باب ماجاء فی فضل الحجر والا سود والرکن، رقم ۸۷۹، ج ۲ ، ص ۲۴۸)
ایک روایت میں ہے کہ ''بیشک رکن (اسود)اور مقام ابراہیم علیہ السلام جنت کے یاقوتوں میں سے ہیں اگر یہ اپنے اندر آدمیوں کی خطائیں جذب نہ کرتے تومشرق ومغرب کی ہر چیز کو روشن کردیتے اور جو بیمار یا مصیبت زدہ انہیں چھولے اسے شفا دے دی جاتی ہے۔ ''
(شعب الایمان ، باب فی ا لمناسک ، فضل فضیلۃ الحجر الاسود والمقام ، رقم ۴۰۳۱ ، ج۳ ، ص ۴۴۹)