| جنت میں لے جانے والے اعمال |
دورکعتیں ادا کیں توحضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ نے ہم سے فرمایاکہ ''نئے سرے سے عمل شروع کرو کیونکہ تمہاری مغفرت ہوچکی ہے ۔'' پھر فرمایا کہ جب ہم نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ بارش کے دوران طواف کیا تھا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے اسی طرح فرمایاتھا۔''
(ابن ماجہ، کتا ب المناسک ،باب الطواف فی مطر ،رقم ۳۱۱۸ ،ج۳، ص ۵۲۴)
(۸۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''قیامت کے دن رکن ِاسود' جبل ِ ابوقبیس سے بڑا ہوکرآئے گا اوراس کی دوزبانیں اور دوہونٹ ہوں گے ۔''
(مسند احمد ، مسند عبداللہ بن عمر وبن عا ض، رقم ۶۹۹۷،ج ۲،ص ۶۶۵)
(۸۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حجرِ اسود کے بارے میں فرمایا،'' اللہ عزوجل کی قسم !رب تعالیٰ قیامت کے دن اسے دودیکھنے والی آنکھوں اور بولنے والی زبان کے ساتھ اٹھائے گا پھر یہ حق کے ساتھ استلام کرنے والوں کے بارے میں گواہی دے گا ۔''
(جامع التر مذی ،کتاب الحج ، باب ماجاء فی الحجر الاسود ،ر قم ۹۶۳ ، ج ۲، ص ۲۸۶)
ایک روایت میں ہے کہ'' اللہ عزوجل قیامت کے دن حجر اسود اور رکن یمانی کو اٹھائے گا، ان میں سے ہرایک کی دوآنکھیں ، دوزبانیں اور دو ہونٹ ہوں گے جن کے ذریعے یہ اپنا صحیح طریقے سے استلام کرنے والوں کے حق میں گواہی دیں گے ۔''
(المعجم الکبیر ، رقم ۱۱۴۳۲، ج ۱۱ ، ص ۱۴۶)
(۸۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حجرِاَ سود جنت کے یا قوتو ں میں سے ایک سفید یا قوت ہے اور اسے مشرکین کے گناہ نے سیاہ کردیا ،قیامت کے دن اسے احد پہاڑکی مثل بنادیا جائے گا تو یہ دنیا والو ں میں سے اپنا استلام کرنے والو ں اور بوسہ دینے والو ں کے حق میں گواہی دے گا ۔''
(صحیح ابن خزیمہ ، کتاب المناسک ، رقم ۲۷۳۴ ، ج۴ ، ص ۲۲۰)
ایک روایت میں ہے کہ ''حجر ا سود جنت سے اتا ر ا گیاہے یہ دو دھ سے زیادہ سفید تھا پھراسے انسانوں کے گناہو ں نے سیا ہ کردیا۔''
(جامع التر مذی ،کتاب الحج ، باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود والرکن ، رقم ۸۷۸، ج ۲ ، ص ۲۴۸)
(۸۵۷)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اس حجراسود کواپنے