Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
306 - 736
عزوجل اس کے لئے ایک نیکی لکھتاہے اور اس کا ایک گناہ مٹاتاہے اور اس کے لئے ایک درجہ لکھا جاتا ہے۔'' اور میں نے یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ ''جس نے گن کرطواف کے سات چکر لگائے تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔''
( ابن خزیمہ ، جماع ابواب ذکر افعا ل اختلف الناس ، با ب فضل الطواف بالبیت ، رقم ۶۷۵۳، ج۴، ص ۲۲۷)
(۸۴۸)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،''جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دورکعتیں ادا کیں تویہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے۔''
 (ابن ماجہ ،کتاب المناسک ،باب فضل الطواف ،رقم ۲۹۵۶، ج۳ ،ص ۴۳۹)
(۸۴۹)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا محمد بن منکدر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس دوران کوئی لغو کام نہ کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔''
 (طبرانی کبیر ،رقم ۸۴۵، ج۲۰،ص ۳۶۰)
(۸۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اللہ عزوجل اپنے بیت الحرام کاحج کرنے والوں پر روزانہ ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے چالیس نما ز یوں کے لئے اور بیس دیکھنے والوں کے لئے ہیں۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الحج ،باب التر غیب فی الطواف الخ ،رقم ۶ ،ج ۲، ص ۱۲۳)
(۸۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حُمید بن ابو سَوِ یَّۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ہِشَام کو بیت اللہ کے طواف کے دوران حضرتِ سیدنا عطا ء بن ابی ریاح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رکن ِیمانی کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا ، حضرتِ سیدنا عطا رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ،'' حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''(اس رکن یمانی پر) ستّر فرشتے موکل (مقرر) ہیں جب کوئی شخص یہ دعا مانگتاہےتو وہ فرشتے آمین کہتے ہیں۔
     ''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَوَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ:اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفووعافیت کاسوال کرتاہوں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اورہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔''

     جب حضرتِ سیدنا عطارضی اللہ عنہ طواف کرتے ہوئے رکن اسود پر پہنچے توابن ہشام نے عرض کیا ،''اے ابو محمد! تمہیں اس رکن اسود کے متعلق کون سی روایت پہنچی ہے؟ '' حضرتِ سیدنا عطا بن ابی رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، ''حضرتِ سیدنا
Flag Counter