| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۸۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بیت اللہ کے گرد طواف کرنا نماز ہی ہے لیکن تم اس میں کلام کرسکتے ہو لہذا جو طواف کے دوران گفتگوکرنا چاہے تووہ اچھی بات ہی کہے ۔''
(جامع التر مذی ، کتاب الحج ، باب ماجاء فی الکلام فی الطواف ، رقم ۹۶۲، ج ۲ ، ص ۲۸۶)
(۸۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے پچاس مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیاوہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو گیاجیسا اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔''
(ترمذی، کتا ب الحج، با ب ماجاء فی فضل الطواف ،رقم ۸۶۷، ج۲، ص ۲۴۴)
(۸۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عبید بن عمیر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب کوحضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے یہ کہتے ہوئے سنا،''کیا بات ہے کہ میں تمہیں صرف ان دو(۲) رُکنوں حجر اسود اوررکن یمانی کا ہی استلام کرتے دیکھتا ہوں؟''تو سیدناابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہمانے جواب دیا ، ''میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، '' ان دونوں رکنوں کا استلام کرنا گناہوں کو مٹادیتاہے ۔''اور میں نے یہ بھی سنا کہ ''جس نے گِن کر سات مرتبہ طواف کیا اور پھر دورکعتیں اداکیں تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابرہے۔''اوریہ بھی سنا کہ'' طواف کرتے ہوئے آدمی کے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے دس نیکیا ں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹادئیے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کردئیے جاتے ہیں۔''
(مسند احمد بن حنبل ، مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطا ب ، رقم ۴۴۶۲ ، ج۲ ،ص ۲۰۲)
ایک روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' ان دونوں رُکنوں کو چھونا گناہوں کاکفارہ ہے۔'' اور یہ بھی سناکہ ''بندہ کے ایک قدم رکھنے اور دوسرا قدم اٹھانے پر اللہ عزوجل اس کا ایک گناہ مٹاتاہے اور اس کے لئے ایک نیکی لکھتاہے ۔''
(جامع التر مذی ، کتاب الحج ، باب ماجاء فی استلام الرکنین ، رقم ۹۶۱ ، ج ۲، ص ۲۸۵)
ایک روایت میں ہے کہ میں ایسا کیوں نہ کروں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' ان دو رکنوں کو چھونا گناہوں کو مٹادیتاہے۔'' اور یہ بھی سنا کہ'' جو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کوئی قدم اٹھائے یا رکھے اللہ