| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۸۴۲)۔۔۔۔۔۔ ۸۴۲)… حضرت ِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ’’لبیک(یعنی تلبیہ)کہنے والا جب بلند آواز کے ساتھ لبیک کہتا ہے تواسے بشارت دی جاتی ہے ۔‘‘عرض کی گئی ، ’’جنت کی بشارت دی جاتی ہے؟‘‘ فرمایا،’’ ہاں۔‘‘‘
(طبرانی اوسط ،رقم ۷۷۷۹ ،ج۵، ص ۴۱۱)
(۸۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ ِاقدس میں عرض کیا گیاکہ کون سا عمل سب سے افضل ہے فرمایا، '' بلند آواز سے تلبیہ پڑھنا اور قربانی کرنا۔''
(ابن ماجہ ،کتاب المناسک ،باب رفع الصوت بالتلبیہ ،رقم ۲۹۲۴ ،ج۳، ص ۴۲۳)
مسجد اقصیٰ سے احرام باندھنے والے کا ثواب
(۸۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو حج یاعمرہ کے لئے مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھتاہے اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں یا اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔''(یہاں راوی کو شک ہے کہ گناہوں کی مغفرت یا جنت کی بشارت میں سے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی)
(سنن ابی داؤد ، کتاب المناسک ، باب فی المواقیت ، رقم ۱۷۴۱ ، ج ۲، ص ۲۰۱)
ایک روایت میں ہے کہ جو عمرے کیلئے بیت المقدس سے احرام باندھ کر تلبیہ پڑھے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتاب المناسک ،باب من اھل بعمرۃ من بیت المقدس ، رقم ۳۰۰۱ ، ج ۳ ،ص ۴۶۱)
ایک روایت میں ہے کہ جس نے مسجد اقصیٰ سے عمرہ کے لئے احرام باندھتے وقت تلبیہ پڑھی اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔''
راوی کہتے ہیں کہ حضرتِ سیدتنا ام حکیم رضی اللہ عنہا بیت المقدس گئیں اور وہاں سے عمرہ کے لئے تلبیہ پڑھی ۔(الاحسان بترتیب ابن حبان ،کتاب الحج ، باب فضل الحج والعمرۃ ، رقم ۳۶۹۳ ، ج ۶ ، ص ۵ )
ایک روایت میں ہے کہ جس نے عمرہ کے لئے بیت المقدس سے تلبیہ پڑھی تو اس کا یہ عمل اس کے پچھلے گناہوں کاکفارہ ہوجائے گا ۔
(سنن ابن ماجہ ،کتاب المناسک ،باب من اھل بعمرۃ من بیت المقد س ، رقم ۳۰۰۲ ، ج ۳ ، ص ۴۶۱)
ایک روایت میں ہے کہ جس نے حج یا عمرہ کے لئے مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام تک تلبیہ پڑھی تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔''
(شعب الایمان ، باب فی المناسک فعل فی الاحرام و التلبیہ ، رقم ۴۰۲۶ ، ج۳ ، ص۴۴۸)