Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
299 - 736
حج اور عمرہ کے لئے نکلنے والے کے فوت ہوجانے کا ثواب
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے،
وَمَنۡ یَّخْرُجْ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿100﴾٪
ترجمہ کنزالایمان :اور جو اپنے گھر سے نکلااللہ ورسول کی طر ف ہجر ت کرتا پھر اسے موت نے آلیا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ( پ 5 ،النسآء: 100) ۔

(۸۲۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ کھڑا تھا کہ اچانک سواری سے گر کراسکی گردن ٹوٹ گئی۔ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اسے پانی اوربیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اوراسے انہی کپڑوں میں کفناؤ اور اس کے سر کومت ڈھانپواور خوشبو نہ لگاؤ کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتاہوا اُٹھے گا۔''

    ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص سرورِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حالتِ احرام میں تھا۔ اس کی اونٹنی نے اسے گراکر اسکی گر دن توڑدی اور وہ مرگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔''

    ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو حکم فرمایا ،'' اسے پانی اوربیری کے پتوں کے ساتھ غسل دیکر اس کا چہرہ (یا فرمایا) اس کا سر کھول دو کیونکہ یہ قیامت کے دن بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھے گا۔''
     (صحیح مسلم ، کتاب الحج ، باب مایفعل با لمحرم اذا مات ، رقم ۱۲۰۶ ، ص ۶۲۰،۶۲۲)
(۸۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو حج کے ارادے سے نکلے اور مرجائے اس کے لئے قیامت تک حج کرنے والے کا ثواب لکھا جاتا رہے گا اور جو عمرہ کے ارادہ سے نکلا اور مرگیا اس کے لئے قیامت تک کے لئے عمرہ کرنے والے کاثواب لکھا جاتا رہے گااور جو جہاد کے ارادے سے نکلا پھر مر گیا تو اس کے لئے قیامت تک جہاد کرنے والے کا
Flag Counter