Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
297 - 736
رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب
(۸۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' رمضا ن میں عمرہ کرنا ایک حج یا میرے ساتھ ایک حج کرنے کے برا بر ہے۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الحج ، باب فضل العمرۃ فی رمضان ، رقم ۱۲۵۶ ،ص۶۵۶)
    ایک روایت میں ہے کہ جب سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک صحابی کی زوجہ نے ان سے کہا کہ ''مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج ادا کراؤ۔'' انہوں نے جواب دیا،'' میرے پاس اتنی استطا عت نہیں کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کراسکوں۔'' تو زوجہ نے کہا ، ''اپنے فلاں اونٹ پر حج کرادو۔'' اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا ،''وہ تو اللہ عزوجل کی راہ میں وقف ہے ۔''

    پھر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری زوجہ نے آپ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا ہے اور آپ پر رحمتِ خداوندی کے لئے دعاگوہے،وہ مجھ سے تقاضا کرتی رہی کہ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کراؤں ،مگرمیں نے اسے جواب دیا کہ میرے پاس اتنی استطا عت نہیں کہ تمہیں حج کراؤں تو اس نے کہا کہ اپنے فلاں اونٹ پر حج کرادو تو میں نے کہا کہ وہ تو اللہ عزوجل کی راہ میں وقف ہے۔'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرادیتے تو بھی وہ اللہ کی راہ ہی میں ہوتا۔''پھر انہوں نے عرض کیا،'' اس نے مجھے کہاہے کہ میں آپ سے پوچھوں کہ کیا شے آپ کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟'' تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' میری طر ف سے اسے سلام اور اللہ عزوجل کی رحمت وبرکت کی دعا پہنچا دینا اور اسے بتاناکہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابرہے۔''
 (سنن ابی داؤد ،کتاب المناسک ،باب العمرۃ ، رقم ۱۹۹۰ ، ج ۲ ،ص ۲۹۷)
(۸۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا ام مَعْقِل رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میں ایک بوڑھی اوربیمار عورت ہوں کیا کوئی ایسا عمل ہے جو میرے حج کابدل ہوجائے ؟''ارشاد فرمایا،'' رمضان میں ایک عمرہ کرنا ایک حج کے برابرہے۔''
    (ابو داؤد ،کتاب المناسک ،باب العمرۃ ،رقم ۱۹۸۸، ج۲، ص ۲۹۶)
Flag Counter