Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
295 - 736
عرفات میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟اور جب وہ جِما ر کی رمی کرتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟اور جب وہ اپنا سر منڈواتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟ اور جب وہ حج کا آخر ی طو اف پورا کر لیتا ہے تو اسے کیاثواب ملتا ہے ؟''

    اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عر ض کیا ،''یا نبی اللہ ! اس ذات مقد سہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! آپ نے میرے دل کی بات بتانے میں کو ئی خطا نہیں کی ۔ ''آپ نے ارشاد فرمایا،'' جب حاجی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اسکی سواری سے ہر قد م کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے یااس کا ایک گناہ معا ف کردیا جاتا ہے اور جب وہ عرفہ میں وقوف کرتا ہے تو اللہ عزوجل (اپنی شان کے لا ئق) آسمان ِدنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشا د فرماتا ہے کہ ''میرے ان بندوں کو دیکھو کہ بکھر ے ہوئے با ل پر اگندہ سرہيں،(اے فرشتوں!)گو اہ ہوجاؤ کہ میں نے ان کے گناہ معاف فرمادیئے اگر چہ با رش کے قطرات اور ریت کے ذرّوں کے برابر ہوں،او رجب وہ جمار کی رمی کر تا ہے تو قیامت تک اس کے ثواب کو کوئی نہیں جان سکتا ، اور جب وہ اپنا سر منڈواتا ہے تو اس کے سر سے ہر گر نے والے بال کے بد لے قیامت کے دن نور ہوگا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے تو  گناہو ں سے ایسا پاک ہوجا تاہے جیسا اس دن تھا جب اسکی ماں نے اسے جنا ۔''
( صحیح ابن حبا ن ، کتا ب الصلاۃ ،باب وصف بعض الصلاۃ ،رقم ۱۸۸۴، ج ۳، ص ۱۸۱)
مکہ سے پید ل چل کر حج کرنے کا ثواب
(۸۱۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زَاذَان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ،'' حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما شدید بیما ر ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹو ں کو بلایا اور جمع کر کے فرمایا کہ میں نے سرکارِمدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سناکہ'' جو مکہ سے حج کے لئے پیدل چل کر جا ئے اور مکہ لوٹنے تک پیدل ہی چلے تواللہ عز وجل اس کے ہر قد م کے عو ض سات سو نیکیا ں لکھتا ہے اور ان میں ہر نیکی حر م میں کی گئی نیکیوں کی طر ح ہے ۔''ان سے پوچھا گیا،'' حرم کی نیکیا ں کیا ہیں؟'' فرمایا،'' ان میں سے ہر نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔''
(المستدرک، کتاب المناسک ،باب فضیلۃ الحج ماشیا ،رقم ۷۳۵ ۱ ،ج ۲، ص۱۱۴ )
(۸۱۳)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حضرتِ سیدنا آدم علیہ السلام ہند سے ایک ہزار مرتبہ بیت اللہ شریف پیدل تشریف لائے اورایک مرتبہ بھی سواری پر سوار نہ ہوئے ۔''
   ( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب المناسک، باب عد د حج آدم صلوات اللہ علیہ ، رقم ۲۷۹۲، ج ۴ ، ص ۲۴۵)
Flag Counter