عرفات میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟اور جب وہ جِما ر کی رمی کرتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟اور جب وہ اپنا سر منڈواتا ہے تو اس کے لئے کیا ثواب ہے ؟ اور جب وہ حج کا آخر ی طو اف پورا کر لیتا ہے تو اسے کیاثواب ملتا ہے ؟''
اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عر ض کیا ،''یا نبی اللہ ! اس ذات مقد سہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! آپ نے میرے دل کی بات بتانے میں کو ئی خطا نہیں کی ۔ ''آپ نے ارشاد فرمایا،'' جب حاجی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اسکی سواری سے ہر قد م کے بدلے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے یااس کا ایک گناہ معا ف کردیا جاتا ہے اور جب وہ عرفہ میں وقوف کرتا ہے تو اللہ عزوجل (اپنی شان کے لا ئق) آسمان ِدنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشا د فرماتا ہے کہ ''میرے ان بندوں کو دیکھو کہ بکھر ے ہوئے با ل پر اگندہ سرہيں،(اے فرشتوں!)گو اہ ہوجاؤ کہ میں نے ان کے گناہ معاف فرمادیئے اگر چہ با رش کے قطرات اور ریت کے ذرّوں کے برابر ہوں،او رجب وہ جمار کی رمی کر تا ہے تو قیامت تک اس کے ثواب کو کوئی نہیں جان سکتا ، اور جب وہ اپنا سر منڈواتا ہے تو اس کے سر سے ہر گر نے والے بال کے بد لے قیامت کے دن نور ہوگا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے تو گناہو ں سے ایسا پاک ہوجا تاہے جیسا اس دن تھا جب اسکی ماں نے اسے جنا ۔''