| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۸۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حج اور عمرہ یکے بعد دیگرے کرو کیونکہ یہ دونو ں اعمال فقر اور گنا ہو ں کو ایسے دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے،سو نے اور چاندی کے زنگ کو دور کردیتی ہے او رحج مبرو ر کا ثوا ب جنت کے سوا کچھ نہیں۔''
(سنن تر مذی ،کتا ب الحج، با ب ماجا ء فی ثواب الحج والعمرۃ ،رقم ۸۱۰ ،ج۲، ص ۲۱۸)
(۸۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حج مبرور کا ثو اب جنت سے کم کچھ نہیں ۔'' عرض کیا گیا،'' مبرور سے کیا مرا د ہے؟'' فرمایا،'' ایسا حج جس میں کھانا کھلا یا جائے اوراچھی گفتگو کی جائے۔''
(المعجم الاوسط ، من اسمہ موسی ، رقم ۸۴۰۵ ، ج۶ ، ص۱۷۳)
ایک رو ایت میں ہے کہ فرمایا ،''جس میں کھا نا کھلا یا جائے او رسلا م عام کیا جا ئے۔''
(مسند امام احمدبن حنبل ، مسند جابربن عبداللہ،رقم ۱۴۵۸۸، ج ۵، ص ۹۰ )
(۸۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن جراد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' حج کیا کرو کیو نکہ حج گناہو ں کوا س طرح دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کو دھودیتا ہے ۔''
(المعجم الاوسط ، من اسمہ قیس ،رقم۴۹۹۷،ج۳ ، ص ۴۱۶)
(۸۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' حا جی کے اونٹ کے ہر قدم چلنے اور ہاتھ رکھنے کے بدلے اللہ عزوجل حا جی کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا تا یا ایک در جہ بلند فرماتاہے ۔ ''
(شعب الایمان ،کتا ب المناسک فضل الحج والعمرۃ ،رقم ۴۱۱۶،ج ۳ ، ص ۴۷۹ )
(۸۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' جو بیت الحرام کا قصد کرے پھر اپنی سواری پرسوا ر ہو تو اسکی سواری کے ہر قدم کے بدلے اللہ عزوجل اس کے لئے ایک نیکی لکھے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا پھر جب وہ بیت الحرام پہنچے اور اس کا طواف کرے اور صفا ومرو ہ کے درمیا ن سعی کرے پھر حلق یا تقصیر کرائے تو اپنے گناہوں سے اس طر ح نکل جا ئے گا جیسے اس دن تھا جس دن اسکی ماں نے اسے جنا تھا لہذا! اب وہ اپنے اعمال کی ابتداء نئے سرے سے کرے ۔''
(شعب الایمان، با ب فی المناسک ، فضل الحج والعمرۃ ، رقم ۴۱۱۵ ، ج ۳، ص ۴۷۸)
(۸۰۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ