(۷۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے فرمایاکہ،'' مجھے خبر ملی ہے کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات میں قیام کرتے ہو ،ایسا مت کرو کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اورتمہار ی آنکھوں کاتم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پرحق ہے، روزہ رکھو اور افطاربھی کر واور ہر مہینے میں تین رو زے رکھو یہ ساری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ۔''میں نے عر ض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے ۔''فرمایا ،''تو پھر حضرتِ سیدنا دا ؤ د علیہ السلا م کے رو زے رکھوکہ ایک دن روزہ رکھو ایک دن افطاری کرو(یعنی نہ رکھو)۔'' حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما کہاکرتے تھے کہ ''کاش! میں رخصت اختیار کرلیتا۔''
اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ'' حضرت سیدنا داؤ د علیہ السلام کے روزے سے بڑ ھ کر کوئی روزہ نہیں،آدھی زندگی رو زہ رکھو یعنی ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔''
جبکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ، ''ایک دن رو زہ رکھو تمہیں باقی دنو ں کا ثواب بھی ملے گا۔'' تو میں نے عر ض کیا ، ''میں اس سے زیادہ کی طا قت رکھتاہوں۔''فرمایا ،''دودن رو زہ رکھو تمہیں با قی دنوں کا ثواب بھی ملے گا۔'' میں نے عر ض کیا ،''میں اس سے زیادہ کی طا قت رکھتاہوں ۔''فرمایا ،''تین دن روزے رکھو تمہیں باقی دنوں کا بھی ثواب ملے گا۔'' میں نے عرض کیا کہ '' میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتاہوں۔''فرمایا،'' چاردن روزے رکھو تمہیں با قی دنوں کا ثواب بھی ملے گا ۔''میں نے عرض کیا ،''میں اس سے زیادہ کی طا قت رکھتاہوں ۔'' فرمایا،'' اللہ عزوجل کے سب سے پسند یدہ روزے رکھوجو کہ حضرتِ سیدنا داؤ د علیہ السلام کے روزے ہیں، آ پ علیہ السلا م ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کیا کرتے تھے ۔''