Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
285 - 736
پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی فضیلت
(۷۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''پیراورجمعرا ت کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں لہذا میں پسند کرتاہوں کہ جب میرا عمل پیش کیاجائے تو میں روزہ دا ر ہوں۔''
(ترمذی ،کتا ب الصوم، با ب ماجاء فی صوم یوم الاثنین والخمیس ،رقم ۷۴۷، ج ۲، ص ۱۸۷)
(۷۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! جب آپ رو زے رکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطا ر نہ کریں گے(یعنی مسلسل روزے رکھیں گے) اور جب آپ روزے نہیں رکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ سوائے دو دن کے کبھی رو زے نہ رکھیں گے، اور دو دن ایسے ہیں کہ اگر آپ کے رو زوں میں آ جائیں تو ٹھیک ورنہ آپ ان د نو ں کا رو زہ ضرور رکھتے ہیں۔''دریافت فرمایا،''وہ کونسے دن ہیں؟ '' میں نے عر ض کیا،'' پیر اور جمعرات ۔''فرمایا ،''یہ وہ دن ہیں جن میں ربُّ العالمین کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کئے جائیں ۔''
    (سنن نسائی، کتاب الصیام، با ب صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،ج۴، ص ۲۰۲)
(۷۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' ہر پیر اور جمعر ات کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ عزوجل ان میں مشرک کے علاوہ ہر شخص کی بخشش فرمادیتا ہے ماسوائے اس شخص کے جواپنے بھائی سے بغض رکھتاہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ جب تک یہ دونو ں صلح نہ کرلیں انہیں چھوڑدو۔

    ایک اور روایت میں ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ماسوائے اس شخص کے جواپنے کسی بھائی کے ساتھ قطع تعلقی کرتاہے تو کہا جاتا ہے کہ جب تک یہ صلح نہ کرلیں انہیں چھوڑدو جب تک یہ صلح نہ کرلیں انہیں چھوڑ دو،جب تک یہ صلح نہ کرلیں انہیں چھوڑدو۔
   (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب النھی عن الشحناء والتھا جر ، رقم ۲۵۶۵ ، ص ۱۳۸۷)
    ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر اور جمعرات کا رو زہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیاگیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہر پیر اور جمعرات کارو زہ رکھتے ہیں ۔''فرمایا،'' اللہ عزوجل پیر اور جمعرات کے دن ہر مسلمان کی مغفر ت فرمادیتا ہے مگر آپس میں جدائی رکھنے والوں کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتاہے کہ ان دو نو ں کو چھوڑدو یہا ں تک کہ صلح کرلیں۔ ''
     (سنن ابن ماجہ ،کتاب الصیام ، باب صیام یوم الاثنین والخمیس ، رقم ۱۷۴۰ ، ج ۲ ،ص ۳۴۴)
Flag Counter