Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
283 - 736
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں ایک شخص کا تذکرہ کیاگیا  کہ وہ ہمیشہ روزے رکھتا ہے تو آپ صلی اللہ تعالی  علیہ وسلم نے فرمایا،"  وہ کبھی کچھ نہ کھاتا تو یہ اس کے لیے اچھا  تھا ( یعنی ہمیشہ روزنے رکھنے کی صورت میں رات میں بھی کھانے کی کیاضرورت ہے)۔‘‘صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عر ض کیا، ’’اگردودن روزہ رکھے اورایک دن ناغہ کرے (یعنی نہ رکھے)تو؟‘‘ ارشادفرمایا ،’’یہ بھی زیادہ ہے۔‘‘پھر عرض کیا گیا کہ’’ایک روزہ رکھے اورایک دن افطارکرے تو؟‘‘فرمایا،’’ یہ بھی زیادہ ہے۔‘‘پھر فرمایا،’’ کیا میں تمہیں نہ بتائوں کہ سینہ کی کُدورتو ں کوکو نسی چیز دور کرتی ہے ؟(وہ )، ’’ہرماہ تین دن رو زے رکھنا ۔‘‘
(سنن نسائی، کتاب الصیام،با ب صوم ثلثی الدھر ، ج ۴، ص ۲۰۸)
(۷۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''صبر کے مہینے( یعنی رمضا ن) کے روزے اور ہر ماہ تین دن رو زے رکھناسینے کی بیماریو ں(یعنی باطنی بیماریوں) کو دو ر کرتے ہیں۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصیام ،باب صیام ثلاثۃ ایام من کل شھر ،رقم ۵۱۸۸ ،ج۳، ص ۴۴۸)
(۷۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا مَیْمُونَہ بنت سعد رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں رو زوں کے بارے میں بتایئے۔'' فرمایا،'' جو ہرمہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو تووہ ضر ور رکھے کہ ہر دن کا روزہ دس گناہوں کاکفارہ ہے اور روزہ دار شخص گناہوں سے ایسا پاک ہوجا ئے گا جیسے کپڑا پانی سے پاک ہو جاتا ہے۔''
    (طبرانی کبیر ،رقم ۶۰،ج ۲۵، ص ۳۵)
(۷۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو میرے بارے میں بتایا گیا کہ میں کہتاہوں کہ''جب تک زندہ رہوں گا دن میں روزہ رکھوں گا اور رات میں عبادت کیاکروں گا۔'' تو آپ نے مجھ سے فرمایا ،'' کیا یہ بات تم نے ہی کہی ہے؟'' میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ ! میں نے ہی کہی ہے ،''تو آپ نے فرمایا ،'' تم اس کی طا قت نہ رکھ سکوگے لہذا! روزہ بھی رکھو اور افطا ر بھی کرو، آرام بھی کرو اور قیام بھی کرو،ہر مہینے تین روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ایک نیکی دس کے برابرہے لہذا یہ ساری زندگی کے روزوں کے برابر ہونگے۔''

    میں نے عرض کیا ،''میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔''ارشاد فرمایا،''دو دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھو ۔
Flag Counter