Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
282 - 736
 (۷۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جریر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ہر مہینے میں تین دن کے روزے یعنی تیرہویں چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے ساری زندگی کے روزوں کے برابر ہیں۔ ''
 (سنن نسائی ،کتا ب الصیام، با ب کیف یصوم ثلاثۃ ایام من کل شہر ،ج ۴، ص۲۲۱)
ہرماہ تین روزے رکھنے کا ثواب
(۷۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ہر مہینے تین دن روزے رکھنا پوری زندگی روزے رکھنے کی طرح ہے ۔''
  (صحیح بخاری ،کتاب الصوم ،با ب حق الجسم فی الصوم ،رقم۱۹۷۵ ،ج ۱ ، ص ۶۴۹)
(۷۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''ہر مہینے تین دن کے رو زے اور ایک رمضان کے رو زے اگلے رمضان تک پور ی زندگی کے روزوں کے برابر ہيں۔''
 (مسلم ، کتاب الصیام،با ب استحباب صیام ثلاثہ ایام من کل شہر ،رقم ۱۱۶۲، ص ۵۹۰)
(۷۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا قُرَّہ بن ا ِیاس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''ہرماہ تین دن کے رو زے پوری زندگی روزہ رکھنے اور افطار کے برا بر ہے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن، کتاب الصوم ، باب صوم التطو ع ،رقم۳۶۴۵،ج ۵، ص ۲۶۴رواہ عن معاویہ بن قرہ)
(۷۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' جس نے ہرماہ تین دن کے رو زے رکھے تو یہ پورے سال کے رو زے ہیں، اس بات کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتا ب میں یوں کی گئی ہے،
مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا
ترجمہ کنزالایمان :جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں ۔(پ 8، الانعام : 160)
(جامع التر مذی ، کتاب الصوم ، باب ماجاء فی صوم ثلاثہ(ایام) من کل شھر ،رقم ۷۶۲، ج۲،ص۱۹۴ )
(۷۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''حضرتِ سیدنا نوح علیہ السلام عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ پورا سال رو زہ رکھتے تھے اور سیدناداؤ د علیہ السلام نصف سال رو زہ رکھا کرتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام ہرماہ تین رو زے رکھا کرتے اور انہیں پورا سال رو زہ رکھنے اورافطاری کرنے کا ثواب ملتا تھا۔''
  (مجمع الزوائد ، کتا ب الصیام،باب صیام ثلاثۃ ایام من کل شہر ،رقم ۵۱۸۰،ج ۳، ص ۴۴۶)
(۷۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمرو بن شُرَحْبِیل رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ
Flag Counter