Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
280 - 736
(۷۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ'' رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل ہے؟'' فرمایا،'' رمضان کی تعظیم کے لئے شعبان کا روزہ رکھنا۔''پھر پوچھا گیا ، ''سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟'' فرمایا،'' رمضان میں صدقہ کرنا۔''
 (الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم ،باب الترغیب فی صوم شعبان ،رقم ۳ ،ج۲ ،ص ۷۲)
(۷۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات اپنی تمام مخلوق پر تَجَلِّی فرماتاہے، پھرمشرک اور بغض رکھنے والے کے علاوہ اپنی ساری مخلوق کی مغفرت فرمادیتاہے۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الادب ماجاء فی السمناء ، رقم ۱۲۹۶۰ ، ج ۸ ، ص ۱۲۶)
(۷۶۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: ''اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات اپنی تمام مخلوق پر نظر فرماتاہے ،پھرمشرک اور بغض رکھنے والے کے علاوہ اپنی ساری مخلوق کی مغفرت فرمادیتاہے۔''
 (سنن ابن ماجہ ،کتا ب الصلاۃ، با ب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبا ن ،رقم ۱۳۹۰ ،ج۲، ص۱۶۲)
(۷۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات اپنی تمام مخلوق پر نظر فرماتاہے ،پھر بغض رکھنے والے اور کسی کو قتل کرنے والے کے علاوہ اپنے سب بندو ں کی مغفرت فرمادیتاہے ۔''
 (التر غیب والترہیب ،کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم شعبان ،رقم ۱۲، ج۲، ص ۷۳)
(۷۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس کی رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھاکرو کہ اللہ تبارک وتعالی غروبِ آفتاب سےآسمان دنیا پر خاص تجلّی  فرماتااور کہتا ہے:  '' ہے کوئی مغفرت چاہنے والاکہ اس کی مغفرت فرماؤں ،ہے کوئی رزق کا طلب گا ر کہ اسے رزق عطا فرماؤں ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت دوں، ہے کوئی ایسا !ہے کوئی ایسا!۔۔۔۔۔'' یہاں تک  کہ فجر طلوع ہوکرآتی ہے
(سنن ابن ماجہ ،کتا ب الصلاۃ، با ب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبا ن ،رقم ۱۳۸۸ ،ج ۲، ص۱۶۰)
(۷۶۸)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے اور اللہ عزوجل اس رات میں بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے اور اللہ عزوجل اس رات میں مشرک ،بغض رکھنے والے اور قطع رحمی کرنے والے اور تکبرکی وجہ سے اپنے تہبند کو لٹکانے والے اور والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتا۔''
 (الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم شعبان ،رقم ۱۱، ج۲، ص۷۳)
Flag Counter