| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۷۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عاشوراء کے رو زے کے بارے میں سوال کیاگیا توارشاد فرمایا،'' یہ روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔''
( صحیح مسلم، کتا ب الصیام ،با ب استحباب صیام ثلاثہ ،رقم۱۱۶۲، ص ۵۹۰)
(۷۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عبا س رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ماہ رمضان اور یوم عاشوراء کے علاوہ کسی دن کے روزے کو دوسرے دن کے روزے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۱۱۲۵۳ ،ج۱۱، ص ۱۰۳)
(۷۶۰)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابن عبا س رضی اللہ تعالی عنہما سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا،'' مجھے معلوم نہیں کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء اور ماہ رمضان کے علاوہ کسی دن یامہینے کارو زہ اسکی دوسرے دنوں یا مہینوں پر فضیلت کی وجہ سے رکھا ہو۔''
(مسلم، کتا ب الصیام، با ب صو م یوم عا شو راء ،رقم ۱۱۳۲، ص ۱۷۲)
شعبان اورشبِ براء ت کی فضیلت
(۷۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رکھتے ہیں؟''ارشاد فرمایا،'' یہ رجب اور رمضان کے بیچ کا مہینہ ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں، اس مہینے میں ربُّ العٰلمین کی طرف اعمال اٹھائے جاتے ہیں ،میں پسند کرتاہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں ۔''
(سنن نسائی ،کتا ب الصیام، با ب صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ج ۴، ص ۲۰۱)
(۷۶۲)۔۔۔۔۔۔ امُّ المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم !کیا آپ کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے زیادہ پسندہیں؟ ''تو ارشاد فرمایا،'' اللہ عزوجل اس مہینے میں پورے سال میں مرنے والوں کے نام لکھتاہے اورمیں یہ پسند کرتاہوں کہ مجھے اس حال میں موت آئے کہ میں روزہ دار ہوں۔''
(التر غیب والتر ہیب ،کتاب الصوم ،باب التر غیب فی صوم شعبان ،رقم ۴، ج۲، ص ۷۲)