Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
277 - 736
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ثواب
(۷۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عرفہ(یعنی نو ذوالحجہ) کے دن کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،'' یہ روزہ اگلے پچھلے ایک ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتاہے ۔'' 

    جبکہ ایک روایت میں ہے کہ'' مجھے اللہ عزوجل سے امید ہے کہ عرفہ کا روزہ اگلے اور پچھلے ایک ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتاہے۔''
(مسلم ،کتا ب الصیام، باب استحبا ب صیام ثلاثۃالخ،رقم ۱۱۶۲ ، ص ۵۹۰)
(۷۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو عرفہ کے دن روزہ رکھتاہے اس کے پے در پے دوسالوں کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔''
  (التر غیب والترہیب ،کتاب الصوم ،با ب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ ،رقم ۴ ،ج۲ ،ص ۶۸)
(۷۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَعِیْد بن جبیررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرتِ سیدنا عبد اللہ ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا،'' ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری میں ہم اسے دوسال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الصوم ،با ب التر غیب فی صیام یوم عرفۃ ، رقم ۸ ،ج۲، ص ۶۹)
(۷۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا، اس کے ایک اگلے اور ایک پچھلے سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور جس نے عاشورہ کا روزہ رکھا اس کے ایک سال کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔''
   (مجمع الزوائد، کتا ب الصیام ،با ب صیام یوم عر فۃ،رقم ۵۱۴۲ ،ج۳، ص ۴۳۶)
(۷۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضر ت مسروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن ام المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ'' مجھے پینے کے لئے کچھ دیجئے۔''تو ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا، ''اے لڑکے ! اسے شہد پلاؤ۔''پھردریافت فرمایا،'' اے مسروق! تم نے روزہ نہیں رکھا ؟''تو میں نے عرض کیا،'' نہیں!مجھے خوف ہوا کہ کہیں آج عید الاضحی کا دن نہ ہو۔''تو ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ،''عرفہ تو وہ دن ہے جس دن حاکمِ اسلام کسی کو امیرِ حج مقرر کرے اور
Flag Counter