| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۷۴۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی رات عبادت کی تواس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن دل مر جائیں گے۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب احیاء لیلتی العید ،رقم ۳۲۰۳ ،ج ۲ ،ص ۴۳۰۷)
(۷۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے عید ین کی راتوں میں ثواب کی اُمید پر قیام (یعنی عبادت )کیااس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن دل مر جائیں گے ۔''
(ابن ماجہ ،کتا ب الصیام، باب فیمن قام فی لیلتی العیدین ،رقم ۱۷۸۲، ج ۲، ص ۳۶۵)
(۷۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معا ذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے پانچ راتوں کوزندہ کیا اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے، تَرْوِیَہ ،عرفہ او ر قربانی کی رات(یعنی آٹھویں ،نویں اور دسویں ذو الحج) اور عید الفطر اورنصف شعبان کی رات۔ ''
(الترغیب والتر ہیب، کتاب العید ین و الا ضحیہ ، الترغیب فی احیاء لیلتی العیدین ،رقم ۳،ج ۲، ص ۹۸)
اعتکاف کرنے کا ثواب
(۷۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن ِعباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بندے کا اپنے بھائی کی حاجت روائی کے لئے چلنا اس کے لئے دس سال اعتکاف کرنے سے بہتر ہے اور جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتاہے اللہ عزوجل اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں بنادیتا ہے اور ان میں سے دو خندقوں کا درمیانی فاصلہ مشرق و مغرب کے فاصلے سے زیادہ ہے۔''
(التر غیب والترہیب، کتاب الصو م، با ب التر غیب فی الاعتکاف ، رقم ۲ ،ج ۲، ص ۹۶)
(۷۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی بن حسین اپنے والد سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ