| جنت میں لے جانے والے اعمال |
گزشتہ صفحا ت میں حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث گزرچکی ،جس میں یہ بھی بیان کیاگیا تھا کہ'' جس نے رمضان میں کسی روزے دار کو افطاری کرائی،اس کے گناہ بخش دئيے جاتے ہیں،اسے جہنم سے آزاد کردیا جاتا ہے اور اسے روزے دار کا ثواب دیا جاتا ہے جبکہ روزے دار کے ثواب میں بھی کمی نہیں کی جاتی۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم !ہم میں سے ہرایک روزے دار کو افطاری کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔'' توآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' اللہ عزوجل یہ ثواب اسے بھی عطا فرمائے گا جو کسی روزے دارکو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا دودھ کی لسی کے ذریعے افطاری کرائے گا۔''
(الترغیب والترھیب ، کتاب الصوم ،باب الترغیب فی صیام الرمضان ، رقم ۱۳ ، ج ۲ ،ص۵۷)
(۷۳۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے روزے دار کو حلال کھانے یا پانی سے افطاری کرائی توملائکہ رمضان کی ساعتوں میں اس پر رحمت کی دعا کرتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام شب ِ قدر میں اس کے لئے دعا ئے رحمت کرتے ہیں ۔''
(المعجم الکبیر ، رقم ۶۱۶۲ ، ج ۶ ، ص۲۶۱)
(۷۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زید بن خالد جُہْنِی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو کسی روزے دار کو افطاری کرائے گااسے روزہ دا ر کا ثواب دیا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ کی جائے گی۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام، با ب فی ثواب من افطر صائما ،رقم ۱۷۴۶ ،ج۲ ،ص ۳۴۷ )
(۷۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زید بن خالد جُہْنِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے غازی کو سامانِ جہاد فراہم کیا اور حاجی کو زادِراہ دیایا اس کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کی یا کسی روزہ دار کو افطاری کرائی تو اسے ان کی مثل ثواب دیا جائے گااور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی ۔''
(ابن خزیمہ،جماع وقت الافطار ،با ب اعطاء مضطر الصائم ،رقم ۲۰۶۴ ،ج ۳، ص ۲۷۷)
(۷۳۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں عرض کیا گیا، '' کون سا صدقہ افضل ہے؟''تو فرمایا،'' رمضان میں صدقہ کرنا۔''
(ترمذی ،کتا ب الزکاۃ ،با ب فی فضل الصدقہ ،رقم ۶۶۳،ج ۲، ص ۱۴۶ )