| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۷۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل فرماتاہے کہ بیشک مجھے اپنے بندو ں میں سے افطاری میں جلدی کرنے والے پسند ہیں ۔''
(ابن خزیمہ ، جماع ابواب وقت الافطاربا ب ذکرحب اللہ عزوجل المعجلین للافطار ،رقم ۲۰۶۲، ج ۳، ص ۲۷۶)
(۷۳۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''میری امت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک افطاری کرنے کے لئے ستاروں کے نکلنے کا انتظار نہ کرے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ،کتا ب الصوم، با ب الافطاروتعجیلہ ،رقم ۳۵۰۱ ،ج ۵، ص ۲۰۹)
(۷۳۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے، خیر پر قائم رہیں گے ۔''
(صحیح البخاری، کتا ب الصیام، با ب تعجیل الافطا ر ،رقم ۱۹۵۷، ج ۱، ص ۶۴۵)
(۷۳۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا یَعلی بن مُرَّہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''تین کام اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے، افطاری میں جلدی کرنا ، سحری میں تاخیر کرنا اورنماز میں ایک ہاتھ کودوسرے ہاتھ پر رکھنا۔''
(المعجم الکبیر ، رقم ۶۷۶، ج ۲۲، ص ۲۶۳)