(مجمع الزوائد، رقم ۴۸۴۲، ج ۳، ص ۳۵۹)
(۷۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''سحری سے دن کے روزوں پرمدد حاصل کرواوردن کے قیلولہ (یعنی آرام)سے رات کے قیام پر مدد حاصل کرو ۔''
(ابن خزیمہ ،کتاب الصیام ،با ب الامر با لا ستعا نۃ علی الصوم با لسحور،رقم ۱۹۳۹، ج۳، ص ۲۱۴ )
(۷۲۳)۔۔۔۔۔۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضرہوا توآپ سحری تناول فرمارہے تھے۔ آپ نے ارشا د فرمایا کہ'' بیشک یہ برکت ہے جو اللہ عزوجل نے تمہیں عطافرمائی ہے لہذا !اسے نہ چھوڑا کرو ۔''
(نسائی، کتا ب الصوم، با ب فضل السحور، ج ۴، ص ۱۴۵)
(۷۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''سحری ساری کی ساری برکت ہے لہذا! اسے نہ چھوڑا کرو اگر چہ تم میں سے کوئی پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرے کیونکہ اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں۔''
(مسند احمد، رقم ۱۱۰۸۶، ج ۴، ص ۲۶)
(۷۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ للہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے رمضان میں سحری کرنے کے لئے بلایا اور ارشادفرمایا،'' مبارک ناشتے کی طرف آؤ ۔''
(ابن خزیمہ، کتاب الصیام ،با ب ذکر اللیل، رقم ۱۹۳۸، ج ۳، ص ۲۱۴)
(۷۲۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''برکت تین چیزوں میں ہے جماعت ، ثَریداور سحری میں۔''
(التر غیب والترہیب، کتاب الصوم، رقم ۳ ، ج۲، ص ۸۹ )