اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿1﴾ۚۖوَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿2﴾لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ3﴾تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمْرٍ ۙ﴿ۛ4﴾سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ٪﴿5﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک ہم نے اسے شب ِقد ر میں اتار ا اورتم نے کیا جانا کیا شب ِقدر شب ِقدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کیلئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ۔(30، القدر: 1 ،5 )
اس بارے میں احادیث ِ مقدسہ:
(۷۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے شب ِقدر میں ایمان اورنیتِ ثواب کے ساتھ قیام کیا اس کے پچھلے گنا ہ بخش دئیے جائیں گے ۔''
(صحیح البخاری ،کتاب فضل لیلۃ القدر، باب فضل لیلۃ القد ر، رقم ۲۰۱۴، ج ۱ ،ص ۶۶۰ )
ایک اور روایت میں ہے ،'' اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم، رقم ۲، ج ۲ ،ص ۵۴ )
(۷۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ارشادفرمایاکہ'' یہ رمضان کے آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں،ستائیسويں ،انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہے، جو اس میں ثواب کی نیت کے ساتھ قیام کریگا تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔'
'(مسند احمد، رقم ۲۲۸۰۵، ج ۸، ص۴۰۸)