Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
266 - 736
مخلوق میں سے جن وانس کے علاوہ سب سنتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ'' اے امت محمدیہ! رب کریم عزوجل کی طرف نکلو جو بڑے گناہوں کو معاف فرمانے والا ہے۔'' جب وہ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ عزوجل ملائکہ سے فرماتاہے کہ ''مزدورجب اپناکا م

پورا کرلے تو اس کی جزا کیا ہے؟'' ملائکہ عرض کرتے ہیں ،''اے ہمارے معبوداورہمارے مالک عزوجل ! اس کی جزایہ ہے کہ تو اسے پوری اجرت عطافرمائے۔'' تو اللہ عزوجل فرماتاہے،'' اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنی رضا اور مغفرت کوان کے رمضان میں روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب بنادیا۔''پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ،''اے میرے بندو! مجھ سے مانگو ،مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! تم اکٹھے ہوکر اپنی آخرت کیلئے مجھ سے جو کچھ بھی مانگو گے میں تمہیں ضرور عطا فرماؤں گا اور اپنی دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے تو اس میں سے جو تمہارے لئے بہتر ہوگا وہ تمہیں عطا فرماؤں گا اور مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں تمہارے عیبوں پر پردہ ڈالوں گا ،مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں تمہیں حقداروں کے سامنے ہرگز رُسوا اور ذلیل نہیں کروں گا، مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ۔''پھر فرشتے اللہ عزوجل کی اس امت کے لئے ان کے رمضان کے بعد افطار کرنے پر کی جانے والی عطا پر خوشیاں مناتے ہیں۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الصوم، باب التر غیب فی صیام رمضان احتسابا ،رقم ۲۳، ج۲ ،ص ۶۰ بتغیر قلیل)
Flag Counter