Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
265 - 736
دیئے گئے ہیں ۔''

    اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ،'' اے رضوان ! جنت کے دروازے کھول دو ، اے مالک علیہ السلام !جہنم کے دروازے بند کردو ،

اے جبرائیل علیہ السلام! زمین پر جاؤ اورسرکش شیاطین کو زنجیروں سے باندھ کر سمندر میں ڈا ل دو تا کہ وہ میرے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی امت کے روزوں میں فساد نہ ڈالیں۔'' پھر اللہ عزوجل رمضان کی ہررات میں ایک منادی کو تین مرتبہ یہ ندا کرنے کا حکم ارشاد فرماتاہے ،''کوئی ہے مانگنے والا جسے میں اس کی مرادعطا کروں، کوئی ہے توبہ کرنے والا جس کی توبہ قبول کروں، کوئی ہے مغفرت چاہنے والا جسے میں بخش دوں ، کون ہے جو ایسے غنی کو  قرض دے  جو محتاج نہیں اور ایسا عطا فرمانے والاکہ ذرہ بھر کمی نہ کرے ۔۔۔۔۔۔

    اور اللہ عزوجل رمضان کے ہر دن میں افطاری کے وقت دس لاکھ ایسے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوتی ہے پھر جب رمضان کا آخری دن آتاہے تو اللہ عزوجل رمضان کے پہلے دن سے آخری دن تک آزاد کئے گئے بندوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتاہے اور جب شب ِقدرآتی ہے تو اللہ عزوجل جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیتاہے تو وہ ملائکہ کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اتر تے ہیں اور ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈاہو تاہے جسے وہ کَعْبے کی چھت پہ گاڑ دیتے ہیں ، جبرائیل علیہ السلام کے سو پر ہیں ان میں سے دو پرایسے ہیں جنہیں وہ صرف اسی رات میں پھیلاتے ہیں اور وہ مشرق ومغرب کو ڈھانپ لیتے ہیں، جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کو اس رات میں طلوع ِفجر تک ہر کھڑے اور بیٹھے ہوئے اور نَماز پڑھنے والے اور ذکر کرنے والے کو سلام کرنے اور ان کے ساتھ مصافحہ کرنے اور ان کی دعاؤں پر آمین کہنے کی تر غیب دیتے ہیں۔

     جب فجر طلوع ہوجاتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام ندا فرماتے ہیں،'' اے فرشتو! واپس چلو، واپس چلو ۔''تو وہ عرض کرتے ہیں ،''اے جبرائیل !اللہ عزوجل نے امتِ احمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مؤمنین کی حاجتوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا؟'' تو جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اس رات میں ان پر نظر رحمت فرمائی اور چار شخصوں کے سوا سب کی مغفرت فرمادی ۔''راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ چارشخص کون ہیں ؟'' فرمایا،'' شراب کا عادی ،والدین کا نافرمان ،قطع رحمی کرنے والااورمُشاحِن۔'' ہم نے عرض کیا، '' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشاحن کون ہے؟'' فرمایا:''اپنے بھائی سے بغض رکھنے والا۔''

     پھر عید الفطر کی رات آجاتی ہے جسے لیلۃ الجائزۃ (یعنی انعام کی رات) کہاجاتاہے اور جب عید الفطر کادن آتاہے تواللہ عزوجل ملائکہ کو ہر شہر میں بھیجتا ہے تو وہ زمین پر اتر کرراستوں کے کناروں پر کھڑے ہوکر ندا کرتے ہیں اور ان کی آواز اللہ عزوجل کی