Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
264 - 736
   '' بیشک سال کی ابتداء سے لے کر آخر تک جنت کو رمضا ن کیلئے سجایا جاتاہے ،جب رمضان کا پہلا دن آتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے اور جنت کے درختوں کے پتے ہلنا شروع ہو جاتے ہیں تو حُورِ عین ان کی طرف دیکھ کر عرض کرتی ہیں،'' یا رب عزوجل !ہمارے لئے اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے کچھ شوہر بنادے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔'' پھر فرمایا،''جو بندہ رمضان کے ایک دن کا روزہ رکھتاہے موتیوں کے ایک خیمے میں اس کا نکاح حورِ عین میں سے ایک حور کے ساتھ کردیا جاتاہے جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے
حُوۡرٌ مَّقْصُوۡرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ﴿ۚ72﴾
ترجمہ کنزالایمان :حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین ۔(پ27،الرحمن:72)

ان میں سے ہر حور پر ستر حُلّے ہوتے ہیں جن میں ہرایک کا رنگ دو سرے سے مختلف ہوتاہے اور انہیں ستّر رنگوں کی خوشبو عطا کی جاتی ہے اور ہر خوشبو کا رنگ دوسری سے مختلف ہوتاہے اور ان میں سے ہر عورت کے ساتھ ستر ہزار کنیزیں کا م کاج کے لئے ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ ستر ہزار غلِمان (یعنی غلام)ہوتے ہیں اور ہر غلمان کے پاس سونے کا ایک برتن ہوتاہے جن میں ایک قسم کا کھانا ہوتاہے جس کے ہر لقمے کا ذائقہ دوسرے سے جدا ہوتاہے اور ان میں سے ہر عورت کے لئے سرخ یا قوت کے ستر تخت ہوتے ہیں اور ہر تخت پر ستر قالین ہوتے ہیں جن کا اندرونی حصہ ِاسْتَبْرَق (یعنی سبز ریشم)کا ہوتاہے اور ہر قالین پر ستّر تکیے ہوتے ہیں اور ان کے شوہر کواتنے ہی موتیوں سے مزیّن سر خ یاقوت کے تخت عطا کئے جاتے ہیں اورسو نے کے دو کنگن پہنائے جاتے ہیں اور یہ فضلیت اسے رمضا ن کا ہررو زہ رکھنے پر عطا کی جاتی ہے جبکہ دیگر نیکیوں کا ثواب اس کے علاوہ ہے۔''
(ابن خزیمہ ،کتاب الصیام ،با ب ذکر تزیین الجنۃ شہر رمضا ن، رقم ۱۸۸۶، ج ۳، ص ۱۹۰ )
(۷۱۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' بے شک جنت کو ایک سال کی ابتداء سے دوسرے سال تک رمضان کی آمد کے لئے'' بخور'' کی دھونی دی جاتی ہے اور سجایا جاتاہے پھرجب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جسے'' مُثِیرہ'' کہا جاتا ہے تو جنت کے پتے اور دروازوں کے پٹ ہلنے لگتے ہیں اور اس سے ایسی دلکش آواز پیدا ہوتی ہے کہ اس جیسی آواز کسی نے نہ سنی ہوگی تو حورعین باہر نکلتی ہیں اور جنت کی با لکو نیوں پر کھڑی ہوکر ند ا کرتی ہیں،'' کوئی ہے اللہ عزوجل کو پکارنے والاتاکہ وہ اس کی شادی کرائے ؟'پھر وہ پوچھتی ہیں، ''اے رضوانِ جنت! یہ کون سی رات ہے ؟''تو حضرتِ سیدنا رضوان علیہ السلام ان کی نداپر لبیک کہتے ہوئے جواب دیتے ہیں،''یہ رمضان کی پہلی رات ہے، امت محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے روزہ داروں کے لئے جنت کے دروازے کھول
Flag Counter