Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
263 - 736
(۷۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سلمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،'' اے لوگو ! ایک عظمت وبرکت والا مہینہ تمہارے پاس آگیا ہے ،اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،اس کے روزے اللہ عزوجل نے فرض فرمائے ہیں ، اس کی رات میں قیام کرنانفل ہے ،جو اس میں کوئی نیکی کا کام کریگا گویا اس نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں کوئی فرض ادا کیا اور جواس مہینے میں فرض ادا کریگاگویا اس نے رمضا ن کے علاوہ کسی اور مہینے میں ستر فرض ادا کئے،یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کاثواب جنت ہے ، یہ رحم کرنے کا مہینہ ہے ، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں اضافہ کردیا جاتاہے، جس نے روزہ دار کو روزہ افطار کروایا اس کے گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے اور اسے جہنم سے آزاد کردیا جاتاہے اور اسے روزے دار کا ثواب دیا جاتا ہے اور روزے دار کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جاتی۔'' 

    صحابہ کرام علیہم الرضوا ن نے عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے ہرایک روزے دار کو افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔'' توآپ نے ارشادفرمایا ،'' اللہ عزوجل یہ ثواب تواس شخص کوبھی عطا فرمائے گا جو کسی روزے دا رکو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا دودھ کی لسی کے ذریعے افطار کرائے گا ۔'' پھر فرمایا ، ''اس مہینے کا پہلا عشرہ رحمت ،دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے ، جو اس مہینے میں اپنے غلاموں کے کام میں تخفیف کریگا اللہ عزوجل اس کی مغفرت فرمادے گا اوراسے جہنم سے آزاد فرمادے گا، اس مہینے میں چار کا م کثرت سے کیا کرو، ان میں سے دوخصلتیں تووہ ہیں جن کے ذریعے تم اپنے رب عزوجل کو راضی کرسکتے ہو اور دو خصلتیں وہ ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہوسکتے ،وہ دوخصلتیں جن کے ذریعے تم اپنے رب عزوجل کو راضی کرسکتے ہو، وہ یہ ہیں (۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی معبو د نہیں(۲) اور اللہ عزوجل سے استغفار کرنااور وہ دو خصلتیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے ،وہ یہ ہیں (۱) اللہ عزوجل سے جنت کا سوال کرنا اور(۲) جہنم سے پناہ طلب کرنا، اورجو کسی روزہ دار کو پانی پلائے گااللہ عزوجل اسے میرے حوض سے ایسا گھونٹ پلائے گاجس کے بعد اسے پیاس نہیں لگے گی یہاں تک  کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔''
   (ابن خزیمہ،کتاب الصیام، با ب فضائل شہر رمضان ،رقم ۱۸۸۷، ج۳، ص ۱۹۱ )
(۷۱۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو مسعود غِفاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' اگر بندے جان لیں کہ رمضان میں کیا ہے تو میری امت ضرو ر یہ تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہو۔'' بنوخُزَاعہ کے ایک شخص نے عرض کیا،'' یانبی اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم! ہمیں کچھ بتائیے ۔'' ارشاد فرمایا،
Flag Counter