Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
261 - 736
کو غفلت میں ڈالنے اور ان کے را ز ظاہر کرنے میں اضا فہ کردیتا ہے ۔''
(ابن خزیمہ ،کتاب الصیام ،با ب فی فضل شہر رمضان ،رقم ۱۸۸۴ ،ج۳ ،ص ۱۸۸ )
(۷۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب رمضا ن کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکردیئے جا تے ہیں اور شیا طین کو بیڑیو ں میں جکڑ لیاجاتا ہے۔''

     ایک روایت میں ہے کہ رحمت (یعنی جنت) کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیرو ں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔''
 (مسلم،کتاب الصیام، با ب فضل شھر رمضان ، رقم ۱۰۷۹، ص ۵۴۳ )
(۷۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جب رمضا ن کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اورشریر  جِنّات کو بیڑیو ں میں جکڑ دیاجا تا ہے اور جہنم کے درواز ے بند کردئيے جا تے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جا تا اور جنت کے دروازے کھول دیے جا تے پھر کوئی دروازہ بند نہیں کیا جا تا اور ایک منا دی ندا کرتاہے،'' اے بھلائی کے طلب گار! متو جہ ہوجا اور اے شر کے طلب گار! شر سے بازآ ،اور اللہ عزوجل جہنم سے بے شمار لوگو ں کو آزادی عطا فرماتا ہے اور ایساہر را ت میں ہوتا ہے ۔''
(ابن خزیمہ، کتاب الصیام ، رقم ۱۸۸۳ ،ج ۳، ص ۱۸۸ )
(۷۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورا مہینہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتااور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پورا مہینہ ان میں سے ایک دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا اور شریر جنات کو باندھ دیا جاتاہے اور روزانہ رات کو آسمان سے ایک منادی طلوع فجر تک ند ا کرتاہے،'' اے خیر کے طلب گا ر! متوجہ ہو جااور خوشخبری لے لے اور اے شر کے طلب گا ر! شر سے باز آاور اپنی آنکھیں کھول ،ہے کوئی مغفرت چاہنے والا تاکہ اس کی مغفرت کی جائے ،ہے کوئی توبہ کرنے والا تاکہ ہم اس کی توبہ قبول فرمائیں، ہے کوئی دعا مانگنے والا تاکہ ہم اس کی دعا قبول فرمائیں، ہے کوئی ہم سے مانگنے والا تاکہ ہم اسے اس کی مرا د عطا فرمائیں، اور اللہ عزوجل رمضان کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار افرادکو جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے اور جب عید الفطر کادن آتاہے توجتنے افراد کوپورے رمضان میں جہنم سے آزادکیا گیا ان کی تعداد کے بر ابر افراد کو جہنم سے آزاد کردیاجاتاہے ۔''
(شعب الایمان،باب فی الصیام ،رقم ۳۶۰۶، ج۳ ،ص ۳۰۴ )
Flag Counter