| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے ،محروم ہے وہ شخص جس نے رمضا ن کو پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی کہ جب اس کی رمضا ن میں مغفرت نہ ہوئی تو پھر کب ہوگی ؟ ''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصیام باب فی شہور البرکۃ وفضل شہر رمضان ،رقم ۴۷۸۸، ج ۳ ،ص ۳۴۵)
(۷۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے رمضا ن کی آمد کے بعد ایک دن فرمایا، '' تمہارے پاس برکتو ں والامہینہ رمضا ن آگیا ،اللہ عزوجل اس مہینے میں تمہیں ڈھانپ دیتا ہے پھر رحمت نازل فرماتا ہے اور گناہو ں کو مٹا دیتا ہے اور اس مہینے میں دعا قبول فرماتاہے اللہ عزوجل تمہاری نیکیو ں کی طرف دیکھتا ہے اور تم پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے ،لہذا! اس مہینے میں اپنی جانب سے اللہ عزوجل کو بھلائی دکھاؤ کیونکہ بدبخت وہی ہے جو اس مہینے میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محر وم رہا۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الصیام باب فی شہور البرکۃ وفضل شہر رمضان ،رقم ۴۷۸۳، ج ۳،ص ۳۴۴)
(۷۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جب رمضا ن کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخری رات تک ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جا تا اور جو بندہ اس مہینے کی کسی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے لئے ہر سجدے کے عو ض پند ر ہ سو نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سر خ یا قوت کا ایک گھر بنادیا جاتاہے جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوتے ہیں اور ہر دروازے پر سو نے کی ملمع کاری ہوگی اور اس پر سر خ یاقُوت جَڑے ہوں گے، جب بندہ رمضا ن کے پہلے دن کا رو زہ رکھتا ہے تو اس کے پچھلے رمضا ن کے پہلے دن کے روزے تک کے گناہ معا ف کردیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے روزانہ ستر ہزار فر شتے فجر کی نَماز سے غرو ب آفتا ب تک استغفار کرتے ہیں اور اسے رمضان کے ہر دن اور ہر رات میں سجدہ کر نے پر جنت میں ایک ایسا درخت عطا کیا جا تاہے جس کے سایہ میں کوئی سوار پا نچ سو سال تک چلتارہے ۔ ''
(شعب الایمان ، فضائل شہررمضان، باب فی الصیام ،رقم ۳۶۳۵ ،ج ۳، ص ۳۱۴)
(۷۰۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، '' یہ مہینہ تمہارے قریب آگیا ،خدا عزوجل کی قسم ! مسلمانو ں پر کوئی مہینہ ایسا نہیں گزرا جو اِن کے لئے اس مہینہ سے بہتر ہو اور منا فقین پر کوئی ایسا مہینہ نہیں گزرا جو اِن کے لئے اس مہینے سے بد تر ہو،خدا عزوجل کی قسم !اللہ عزوجل اس مہینہ کا ثواب اور نوافل اس کی آمد سے پہلے ہی لکھ دیتا ہے اور اس مہینے کا گناہ اور محرومی اس مہینے کی آمد سے پہلے ہی لکھ دیتا ہے اور اسی وجہ سے مومن اس مہینے میں عبادت میں اضا فہ کردیتاہے اور منا فق اس مہینے میں مومنین