Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
259 - 736
(۶۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا کَعْب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، '' منبر کے قریب آجاؤ۔'' چنانچہ ہم وہاں حاضر ہوگئے۔ جب آپ نے پہلے زینہ پر قدم رکھا تو فرمایا ''آمین ''اور جب دوسرے زینہ پر قدم رکھا تو فرمایا'' آمین ''اور جب تیسرے زینہ پر قدم رکھا تو فرمایا ''آمین ۔'' جب آپ نے منبر سے نزول فرمایا تو ہم نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آج ہم نے آپ سے وہ بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔'' ارشاد فرمایا ،''جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے حاضر ہوئے اور کہا کہ جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر اس کی مغفرت نہ ہو ئی وہ رحمت سے محرو م ہو، تو میں نے آمین کہا، جب میں نے دوسرے زینہ پر قد م رکھا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو اور وہ درو د پاک نہ پڑ ھے وہ رحمت سے محروم ہوتومیں نے آمین کہا پھر جب میں نے تیسرے زینہ پر قدم رکھا تو جبر ئیل علیہ السلام نے کہا جس کے پاس اس کے والدین یا ان میں سے ایک بڑھاپے کوپہنچا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو وہ رحمت سے محروم ہے ، تو میں نے کہا''آمین۔''
(مستدرک، کتاب البر والصلۃ ،باب لعن اللہ العاق لوالدیہ الخ، رقم ۷۳۳۸، ج ۵، ص ۲۱۲ )
(۶۹۹)۔۔۔۔۔۔ اسی روایت کو ابن خزیمہ اور ابن حبّان رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔    (۷۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''تمہارے پاس بر کتو ں والامہینہ ماہ رمضان آگیا جس کے روزے اللہ عزوجل نے تم پر فر ض کئے ہیں ،اس مہینے میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس مہینے میں سرکش شیا طین کو قید کردیاجاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس رات کی بھلائی سے محر وم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا ۔'
(سنن نسائی ،کتا ب الصیام،باب فضل شہر رمضان ،جلد ۴، ص ۱۲۹)
(۷۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان آیا تو شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بے شک یہ مہینہ تمہارے پاس آگیا ہے ،اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جواس کی خیر سے محرو م رہاوہ ہر بھلا ئی سے محر وم رہا اور اس کی بھلائی سے بد نصیب ہی محر وم رہتا ہے۔''
(سنن ابن ماجہ، کتا ب الصیام، با ب ماجاء فی فضل شہر رمضان،رقم ۱۶۴۴، ج ۲،ص ۲۹۸ )
(۷۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''یہ رمضا ن تمہارے پاس آگیا ہے ،اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جا تے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکردیئے جاتے
Flag Counter