''کان آخر من بقی من الحفاظ واہل الحدیث اصحاب الروایہ العالیہ والدرایہ الوافرۃ''
حافظ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معجم میں فرماتے ہیں،
''العلامۃ الحافظ الحجۃ احد الائمۃ الاعلام وبقیۃ نقاد الحدیث وحل سمع الکثیر ومعجمعہ نحو الف وما ئتین و خمسین شیخا ولہ تصانیف فی الحدیث وا لعوالی والفقہ واللغہ وغیر ذلک ومحاسنہ جمۃ،کان ملیح الھیاۃحسن الخلق بساما فصیحا لغویامقرء اجید العبارۃ کبیر النفس صحیح الکتب مفید جید المذاکرۃ موسعا علیہ الرزق ولہ حرمۃ وجلالۃ۔''
تفسیر بحر محیط والے امام ابو حیان اندلسی رحمۃ اللہ علیہ ان کی مدح میں فرماتے ہیں،
ان اکابرین اسلا م کے ان اقوال اور شہادتوں سے آپ کی حدیث وفقہ اور دیگر علوم میں شان وشوکت اور مرتبہ کا پتہ چلتاہے ،اسی طرح سے آپ کی تالیف وتصنیف کردہ کتب کے مطالعہ سے بھی آپ کی رفعت اور منزلت کا اندازہ ہوتا ہے جس طرح سے کہ آپ کے اساتذہ اور تلامذہ کے اسماء گرامی سے آپ کے علم اور اخذ وسماع کاعلم ہوتاہے۔''
ا بن ا لمقیر،یوسف بن عبد المعطی المحلی ،علم بن صابونی ،کمال بن ضریر،ابن علیق،ابن قمیرہ، موہوب الجوالیقی،ہبۃاللہ محمد بن مفرح الواعظ،شعیب بن زعفران ، ابن رواح ،ابن رواحہ ، ابن الجمیزی،رشید بن سلمہ ،مکی بن علان ،اور ان حضرات کے شاگردوں سے بھی علم حدیث کی سماعت کی جیسے اصحاب السلفی،شہدہ،ابن عساکر ،اور محدث ابن شاتیل کے بہت سے شاگرد ان،قزاز ،ابن بری نحوی،خشوعی، اور حافظ ذکی الدین منذری صاحب الترغیب والترہیب سے بالمشافہ علم حدیث کی سماعت کی اور زندگی کا کافی حصہ ان کے پاس رہے حتٰی کہ ان کے جانشین ہوئے ،آپ کے اساتذہ