امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آپ کی ذات ستودہ صفات میں وجاہت، احترام اور جلالت آشکار رہتی تھی ،رزق ومعیشت میں خوب وسعت تھی ،آپ کو مشیخۃ الظاہریہ اور مشیخۃ المنصو ریہ کے بڑے اور اہم عہدوں پر فائز کیا گیا،حسن صورت انتہا درجہ کی حاصل تھی وضع قطع میں ملاحت تھی ،حسن خلقت تھی،مسکراہٹ تھی ،جوانی کی شکل صورت انتہائی صاف اور چکنی تھی طرز گفتگو میں فصاحت نثار ہوتی تھی ،لغت کے ماہر تھے، قراء ت میں روانی تھی ،جید العبارۃتھے،مختلف فنون پر حاوی تھے ،بہترین مذاکرہ اور حسن عقیدہ کے مالک تھے۔''
ا مام دمیاطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساتویں صدی ہجری کے تقریباً۹۲سال گذارے ، جن میں آپ نے علوم اسلامیہ کی تحصیل ،تدریس اور تصنیف میں بالخصوص علم کی خدمت میں صرف فرمائی۔ آپ کی وفات بقول حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمۃ کے اس طرح سے پیش آئی کہ آپ اپنے گھر کی طرف جانے کے لئے سیڑھی پر چڑھتے ہوئے اچانک بے ہوش ہو گئے اور خالق حقیقی کو اپنی جان دے دی،اور حافظ ابن تغری بردی نے آپ کی وفات کی یہ صورت لکھی ہے کہ آپ قاہرہ میں عصر کی نماز پڑھنے کے بعد اچانک بے ہوش ہو گئے توانہیں ان کے گھر لےجایا گیااور اسی وقت وفات پاگئے ،یہ دن اتوار کا تھاتاریخ ۱۵ذوالقعدہ ۷۰۵ھ کی تھی اور آپ کو قا ہرہ میں باب النصر کے قبرستان میں دفن کیاگیا،آپ کی نماز جنازہ قاضی بدر الدین ابن جماعہ نے پڑھائی۔''
اکابرین اسلام کی کتب کے متعلق جن مصنفین نے اعلیٰ قسم کی خدمات سر انجام دی ہیں اور ہمیں ان کی کتب مہیا ہو سکی ہیں ان میں سے