Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
25 - 736
حالاتِ مؤلف
امام حافظ شرفُ الدین عبدُ المُؤمِن بن خَلف الدَمْیَاطِی رحمۃاللّہ علیہ
نام ونسب:
    الامام الحافظ الشیخ ابو محمد شرف الدین عبد المومن بن خلف ابن ابی الحسن بن شرف الدین بن الخضربن موسیٰ التونی الدمیاطی معروف بہ ابن الماجد۔
پیدائش ووفات:
    آپ ۶۱۳ھ بمطابق ۱۲۱۷ء میں پیدا ہوئے اور ۷۰۵ھ بمطابق ۱۳۰۶ء میں اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔
حُصولِ علم:
    آپ کی پیدائش ۶۱۳ھ میں تونہ شہر میں ہوئی جس کو آج جزیرہ بحر المنزلہ میں کوم عبد اللہ بن ملام کے نام سے موسوم کیا ہے ۔آپ کی عمر کا ابتدائی حصہ مصر کے مشہور شہر دمیاط میں گزرا اس شہر میں آپ نے اپنے مذہب میں تفقہ حاصل کیا اور وہیں پر امام ابوالمکارم عبداللہ اور ابو عبد اللہ حسین ابنی منصور السعدی سے قراء ت اور حدیث کا سماع اور شیخ ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ بن نعمان سے بھی حدیث کا سماع کیاجنہوں نے امام دمیاطی کو حدیث کے علم کی طرف متوجہ کیا ورنہ انہوں نے امام شافعی رحمۃاللہ علیہ کی فقہ اور اُصول فقہ کی طرف اپنی توجہ مبذول کر رکھی تھی ۔اس وقت آپ کی عمر ۲۳ سال کی تھی ،اس کے بعد آپ مصر کے شہر اسکندریہ منتقل ہو گئے اور وہاں پر سنہ۶۳۰ھ میں علما کے جم غفیر سے علم حدیث کا سماع کیا۔اس کے بعد آپ قاہرہ تشریف لے گئے اور علم حدیث کی روایت اور درایت میں اعلیٰ مقام حاصل کیا اورحافظ ذکی الدین عبد العظیم منذری مصنف ترغیب وترہیب سے واسطہ رہے اور ان سے علم حدیث کی سماعت کی اور شرف ِ تلمذ طے کیا۔ پھر آپ نے ۶۴۳ھ میں حج کے لئے حرمین شریفین کا سفر کیااور پھر ۶۴۵ھ میں شام کا سفر کیا پھرجزیرہ کا پھر دو مرتبہ عراق کا،ان ممالک میں  موجود اکابرین اسلام سے علوم کا سماع کیااور علم کاخوب نفع حاصل کیا۔اس طرح سے آپ نے دمشق،حماۃ اور حلب کے مشائخ سے بھی علم حاصل کیااور حلب میں حافظ ابوالحجاج یوسف بن خلیل کے حلقہ میں کافی عرصہ گذارااور پھر ماردین اور بغداد میں بھی علمی سفر کیا۔آپ کی اکثر سکونت دمشق اور قاہرہ میں رہی،یہیں پر انہوں نے علم کی شناخت کی ،یہیں سے فقہا ء ،علما ء اور طلباء حدیث وغیرہ کے لئے مستفید ہوتے تھے ،آپ علم کے میدان میں اس درجہ ترقی کر گئے تھے کہ امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب طبقات الشافعیہ الکبریٰ میں آپ کا ان الفاظ میں تذکرہ کیا۔
Flag Counter