(۶۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ عزوجل اسے جہنم سے اتنا دور کردیتاہے جتنا فاصلہ ایک کوا بچپن سے بوڑھا ہوکر مرنے تک مسلسل اُڑتے ہوئے طے کر سکتاہے ۔''
(مسند امام احمد بن حنبل ،رقم ۱۰۸۱۰، ج۳ ،ص ۶۱۹)
(۶۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے سینے سے ٹیک لگائی اور ارشاد فرمایا،'' جس نے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا تووہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ عزوجل کی رضا چاہتے ہوئے کسی دن روزہ رکھے پھر اسی پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے صدقہ کرے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔''
(مسند امام احمد بن حنبل، رقم ۲۳۳۷۴،ج۹ ،ص ۹۰)
(۶۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک سمندری جہاد میں بھیجا۔ ایک اندھیری را ت میں جب کشتی کے با دبان اٹھادیئے گئے توہاتف غیب سے ایک آواز آئی،''اے سفینہ والو! رکو میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ عزوجل نے اپنے ذمۂ کرم پر کیا لیاہے ؟''حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا،'' اگر تم بتاسکتے ہو تو ضرور بتاؤ'' اس نے کہا،''اللہ عزوجل نے اپنے ذمۂ کرم پر لے لیا ہے کہ جو شدید گرمی کے دن اپنے آپ کواللہ عزوجل کے لئے پیاسا رکھے گا اللہ عزوجل اسے سخت پیاس والے دن( یعنی قیامت) میں سیراب کریگا ۔''
امام ابوبکر عبداللہ المعروف ابن ابی الدنیا''کتا ب الجوع ''میں فرماتے ہیں کہ اس دن کے بعد حضرتِ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ خاص ایسے شدید گرمی والے دن بھی روزہ رکھا کرتے کہ اتنی گرمی ہوتی کہ انسان اپنے فا ضل کپڑ ے بھی گر می کی وجہ سے اتار نے پر مجبو ر ہوجائے ۔''(الترغیب والترہیب ،کتاب الصوم، باب الترغیب فی الصوم مطلقا، رقم ۱۸، ج۲، ص ۵۱)