| جنت میں لے جانے والے اعمال |
واجب ہو جاتی ہے اور دوسراوہ شخص جو اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو اس کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے اور جو برا عمل کرے اس کے لئے بری جزا ہے اور جو نیک عمل کا ارادہ کرے پھر اسے نہ کر سکے تو اسے اس کا ثواب دیا جائے گا اور جو ایک نیکی کرے اسے دس نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا اور جو اپنا مال راہِ خدا عزوجل میں خرچ کریگا اس کے خرچ سے ثواب کو بڑھا دیا جائے گا ،ایک درہم کا سات سو گنا اورایک دینار کاسات سو گنا ثواب دیا جائے گااور روزہ اللہ عزوجل کے لئے ہے اور روزہ دار کے ثواب کو اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ''
(شعب الایمان ،باب فی الصیام، رقم ۳۵۸۹، ج۳ ،ص ۲۹۸)
(۶۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !مجھے کوئی عمل بتائیے۔'' ارشاد فرمایا، '' روزے رکھا کرو کیونکہ اس جیسا عمل کوئی نہیں۔'' میں نے پھر عرض کیا،'' مجھے کوئی عمل بتایئے۔''فرمایا، ''روزے رکھا کرو کیونکہ اس جیساکوئی عمل نہیں۔'' میں نے پھر عرض کیا،''مجھے کوئی عمل بتایئے۔''فرمایا ،'' روزے رکھا کرو کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں۔''
(نسائی ،کتاب الصیام ، باب فضل الصیام ، ج۴، ص۱۶۶)
ایک روایت میں ہے کہ میں نے رسول ِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے کسی ایسے کام کا حکم دیجئے جس کے ذریعے اللہ عزوجل مجھے نفع دے۔'' فرمایا،'' روزے کواپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس کا کوئی مثل نہیں ۔''
(نسائی ،کتاب الصیام ، باب فضل الصیام ، ج۴، ص۱۶۶)
جبکہ ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا ،''یار سول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے سبب جنت میں داخل ہوجاؤں۔'' فرمایا ، ''روزے کو خود پر لازم کرلو کیونکہ اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔''
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ، کتاب الصوم ، باب فضل صوم ، رقم ۳۴۱۶، ج ۵ ، ص ۱۷۹)
راوی کہتے ہیں کہ'' حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر دن کے وقت مہمان کی آمد کے علاوہ کبھی دھواں نہ دیکھا گیا ۔ '' (۶۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جہادکیا کروخود کفیل ہوجاؤ گے ، روزے رکھوتندرست ہوجاؤ گے اور سفر کیا کروغنی ہوجاؤ گے۔''
(مجمع الزاوئد، کتا ب الصیام ،با ب فی فضل الصیام، رقم ۵۰۷، ج۳، ص ،۴۱۶)
(۶۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے اور روزہ آدھا صبر ہے۔ ''
(ابن ماجہ ،کتا ب الصیام، با ب فی الصوم زکوۃ الجسد، رقم ۱۷۴۵، جلد ۲،ص۳۴۶ )