Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
254 - 736
لئے ہے اور اس کی جزامیں خود دوں گا اور روزہ ڈھال ہے لہذا جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو ہرگزفحش گوئی نہ کرے اور نہ ہی شور مچائے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس کے ساتھ جھگڑاکرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزہ دا ر ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے !روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہيں،پہلی اس وقت جب وہ افطاری کرتا ہے اوردوسری اس وقت جب وہ اپنے اللہ عزوجل سے ملاقات کریگا تو اپنے روزہ پر خوش ہوگا۔ ''
  (مسلم ،کتا ب الصیام، با ب فضل الصیام، رقم ۱۱۵۱ ،ص ۵۸۰)
    ایک روایت میں ہے کہ ابن آدم کے ہر عمل پر نیکیوں میں سے دس سے سات سو گنااضافہ کیاجاتا ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے مگر روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزا میں خود دوں گا کیونکہ بندہ میرے لئے اپنی خواہشات اور کھانے کو چھوڑدیتاہے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطاری کے وقت دوسری اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے۔''
   (مسلم ،کتا ب الصیام، با ب فضل الصیام، رقم ۱۱۵۱ ،ص ۵۸۰)
     جبکہ ایک روایت میں ہے کہ بیشک تمہارا رب عزوجل فرماتاہے ،''ہر نیکی کا ثواب دس سے سات سو گُنا ہے اور روزہ میرے لئے ہے اورمیں ہی اس کی جزا دوں گا ۔''(پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا)،''روزہ جہنم سے ڈھال ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیاد ہ پاکیزہ ہے۔اگر تم میں سے کسی روزہ دار کے ساتھ کوئی شخص جہالت کا معاملہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اس جاہل سے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۔''

    ایک اور روایت میں ہے کہ'' ابن آدم کے عمل پر دس سے سات سو گنا نیکیاں ہیں مگر روزے میرے لئے ہیں اور انکی جزا میں خود ہی دوں گا کہ میرابندہ میرے لئے اپنے کھانے،پینے ،لذتوں اور بیوی کو چھوڑتاہے۔''(پھر سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا) ،'' روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک کی خوشبوسے زیادہ پاکیزہ ہے اور روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں ،ایک افطاری کے وقت اوردوسری اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت ۔ ''
(المرجع السابق)
(۶۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''اعمال کی تعداد اللہ عزوجل کے نزدیک سات ہے ،ان میں سے دو عمل واجب کرنے والے ہیں ،دوعمل ایسے ہیں جن کا ثواب ایک گُنا ہے اور ایک عمل ایسا ہے جس کا ثواب د س گُناہے اور ایک عمل ایسا ہے جس کا ثواب سات سو گُنا ہے اور ایک عمل ایسا ہے جس کا ثواب اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا،واجب کرنے والے دو عمل یہ ہیں ،پہلاوہ شخص جواللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ اس طرح اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرتا ہوکہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتاہوتو اس کے لئے جنت
Flag Counter