کُلُوۡا وَ اشْرَبُوۡا ہَنِیۡٓــًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَـۃِ ﴿24﴾
ترجمہ کنزالایمان :کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا۔(پ 29 ، الحاقۃ : 24 )
حضرتِ سیدنا وکیع علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں،'' گزرے ہوئے دنوں'' سے مراد روزوں کے دن ہیں کہ لوگ ان میں کھانا پینا چھوڑدیتے ہیں۔''
(۶۷۹ )۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام رَیَّان ہے، اس دروازے سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا ،جب دوسرے لوگ اس میں داخل ہونے کی کوشش کريں گے تو یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور وہ اس میں داخل نہ ہو سکیں گے ۔''
ایک روایت میں ہے کہ'' جب آخری روزہ دار اس میں داخل ہوجائے گا تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گاپھر انہیں پاکیزہ شراب پلائی جائے گی اور جسے (پاکیزہ) شراب پلائی جائے گی اسے کبھی پیاس نہ لگے گی۔''
(مسلم ،کتا ب الصیام، با ب فضل الصیام، رقم ۱۱۵۲ ،ص ۵۸۱)
(۶۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ بندے کا ہر عمل اپنے لئے ہے مگر روزہ میرے