Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
252 - 736
اس نے مجھ سے گو اہ مانگا تھا تو میں نے کہاتھا کہ اللہ عزوجل کی گو اہی کافی ہے تو وہ تیرے گو اہ ہونے پر راضی ہوگیاتھا پھر اس نے مجھ سے ضامن طلب کیا تو میں نے کہا تھاکہ اللہ عزوجل کی ضمانت کافی ہے تو وہ تیر ی ضمانت پرراضی ہوگیا اورتو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے کشتی کے حصول کے لئے کو شش کی تا کہ یہ مال اس کے مالک تک پہنچا سکو ں مگر میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا ، لہذا!اب میں اس امانت کو تیرے سپرد کررہا ہو ں۔''

    یہ کہہ کر اس نے لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا اور اپنے شہر جانے کے لئے کشتی کی تلاش میں دوبارہ نکل کھڑ ا ہوا ۔دوسری جانب وہ شخص جس نے اسے قر ض دیا تھا ،دوسرے کنارے پر آیا کہ شاید کوئی سفینہ اس کے مال کو لے کر آئے ۔اچانک اس نے اسی لکڑ ی کو دیکھا جس میں قرض دار نے مال چھپایا تھا۔ اس نے وہ لکڑی اٹھا لی تا کہ گھر میں ایند ھن کے طور پر استعمال کر سکے ۔ جب اس نے لکڑی کو کاٹاتو اس میں سے مال اور (اس کے نام لکھی گئی)تحر یر برآمد ہوئی۔اس کے بعد قرض دار ایک ہزار دینار لے کر آیا اور کہنے لگا،'' اللہ عزوجل کی قسم! میں تیرامال واپس کرنے تیرے پاس آنے کے لیے مسلسل کَشتی کی تلا ش میں تھا مگر مجھے آنے کے لئے کوئی کَشتی نہ مل سکی ۔'' یہ سن کر قرض خواہ نے کہا،'' بے شک اللہ عزوجل نے تیر ی طر ف سے وہ مال ادا کردیا ہے جو تو نے لکڑی میں ڈال کربھیجا تھا۔''یہ سن کر وہ اپنے ایک ہزار دینار لے کر خوشی خوشی لوٹ گیا ۔
(بخاری ،کتاب الکفالۃ،با ب الکفالۃ فی القر ض ،رقم ۲۲۹۱، ج ۲ ،ص ۷۳)
Flag Counter