اس نے مجھ سے گو اہ مانگا تھا تو میں نے کہاتھا کہ اللہ عزوجل کی گو اہی کافی ہے تو وہ تیرے گو اہ ہونے پر راضی ہوگیاتھا پھر اس نے مجھ سے ضامن طلب کیا تو میں نے کہا تھاکہ اللہ عزوجل کی ضمانت کافی ہے تو وہ تیر ی ضمانت پرراضی ہوگیا اورتو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے کشتی کے حصول کے لئے کو شش کی تا کہ یہ مال اس کے مالک تک پہنچا سکو ں مگر میں اس میں کامیاب نہ ہو سکا ، لہذا!اب میں اس امانت کو تیرے سپرد کررہا ہو ں۔''
یہ کہہ کر اس نے لکڑی کو سمندر میں پھینک دیا اور اپنے شہر جانے کے لئے کشتی کی تلاش میں دوبارہ نکل کھڑ ا ہوا ۔دوسری جانب وہ شخص جس نے اسے قر ض دیا تھا ،دوسرے کنارے پر آیا کہ شاید کوئی سفینہ اس کے مال کو لے کر آئے ۔اچانک اس نے اسی لکڑ ی کو دیکھا جس میں قرض دار نے مال چھپایا تھا۔ اس نے وہ لکڑی اٹھا لی تا کہ گھر میں ایند ھن کے طور پر استعمال کر سکے ۔ جب اس نے لکڑی کو کاٹاتو اس میں سے مال اور (اس کے نام لکھی گئی)تحر یر برآمد ہوئی۔اس کے بعد قرض دار ایک ہزار دینار لے کر آیا اور کہنے لگا،'' اللہ عزوجل کی قسم! میں تیرامال واپس کرنے تیرے پاس آنے کے لیے مسلسل کَشتی کی تلا ش میں تھا مگر مجھے آنے کے لئے کوئی کَشتی نہ مل سکی ۔'' یہ سن کر قرض خواہ نے کہا،'' بے شک اللہ عزوجل نے تیر ی طر ف سے وہ مال ادا کردیا ہے جو تو نے لکڑی میں ڈال کربھیجا تھا۔''یہ سن کر وہ اپنے ایک ہزار دینار لے کر خوشی خوشی لوٹ گیا ۔