| جنت میں لے جانے والے اعمال |
نیت رکھتاہو پھر وہ مرگیا تو اللہ عزوجل اسے معا ف فرمادے گا اور اس کے قر ض خواہ کو اسکی مرضی کے مطا بق کچھ دے کر راضی کر دے گا اور جس نے قر ض لیا اور اس کے دل میں اسے اداکرنے کاارادہ نہیں ہے پھر وہ مرگیا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کے قرض خو اہ کے لیے اس سے تقا ضا کریگا ۔''
(المعجم الکبیر، رقم ۷۹۳۷، ج ۸ ،ص ۲۴۰)
(۶۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن اللہ عزوجل قرض دا ر کو اپنی بارگا ہ میں کھڑ اکر کے پوچھے گا،'' اے ابن آدم ! تو نے یہ قرض کیوں لیا اور لوگو ں کے حقو ق کیوں ضا ئع کئے ؟'' تو وہ عر ض کرے گا،'' اے میرے رب عزوجل! تو جانتا ہے کہ میں نے جب یہ مال لیا تو نہ اسے کھا یا نہ ہی اس کے ذریعہ پیا اور نہ اسے پہنا اور نہ ہی اسے ضا ئع کیا مگر میرا ما ل جل گیا یا چوری ہوگیا یا اس کی قیمت میں کمی ہوگئی ۔'' تو اللہ عزوجل فرمائے گا ،''میرے بندے نے سچ کہا، میں اس با ت کا حق دا ر ہوں کہ اس کی طر ف سے قر ض ادا کر و ں۔'' پھر اللہ عزوجل کوئی چیز منگو اکر اس کی میز ان کے ایک پلڑے میں رکھ دے گا تو اس کی نیکیاں اس کے گناہو ں پر غا لب آجائیں گی اوروہ شخص رحمتِ الٰہی عزوجل سے جنت میں داخل ہوجائے گا ۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب البیوع، باب فی من نوی قضی دینہ واھتم بہ ، رقم ۶۶۶۲، ج ۴، ص ۲۳۸)
(۶۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کاتذکرہ کرکے فرمایا کہ''اس نے بنی اسرئیل کے کسی شخص سے ایک ہزار دینار بطور قر ض مانگے تو اس شخص نے مطالبہ کیا،'' میرے پاس کوئی گواہ لاؤ تا کہ میں انہیں گواہ بنالوں۔'' تو قرض دار نے کہا ،'' اللہ عزوجل کی گواہی کافی ہے۔''قرض خواہ نے کہا ،''کوئی ضامن لے کر آؤ ۔'' قرض دار نے کہا ،'' اللہ عزوجل کی ضمانت کافی ہے۔''قرض خواہ نے کہا ،''تم سچ کہتے ہو۔'' پھر اس نے ایک مقررہ مدت تک کے لئے اس شخص کو ایک ہزار دینار دے دیئے ۔
پھر یہ شخص سمندری سفر پر روانہ ہوگیااور اپنا کام پورا کرکے کسی کشتی کو تلاش کرنے لگا تاکہ اس پر سوار ہوکر مقررہ مدت پوری ہونے تک قرض کی ادائیگی کے لئے اس شخص کے پاس جائے مگر اسے کو ئی کشتی نہ ملی۔ (بالآخر)اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں سور اخ کرکے ایک ہزار دینا ر اور قرض خواہ کے نام ایک خط اس سوراخ میں ڈالے اور اسے بند کردیا۔ پھروہ لکڑی لے کر سمندر کے کنارے آیا اور یہ دعا مانگی،'' اے اللہ عزوجل! تو جانتا ہے کہ جب میں نے فلا ں شخص سے ایک ہزار دینار قر ض مانگا توترجمہ :اے اللہ عزوجل یہ تیرا وہی بندہ ہے جس نے تیری راہ میں ہجرت کی اور شہید ہوگیا اور میں اس بات کا گواہ ہوں ۔''