Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
250 - 736
(۶۷۳)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :،''میری امت میں سے جس نے قرض لیاپھر اسکی ادا ئیگی کے لئے کوشش کی پھر اسے ادا کرنے سے پہلے ہی مرگیا تو میں اس کا ولی ہوں۔''
     (مسند احمد، رقم ۲۴۵۰۹، ج۹، ص ۳۵۰)
(۶۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام حضرت قاسم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اسے ادا کرنے کے معا ملہ میں حریص ہے پھر وہ اسے ادا کئے بغیر مرگیا تو اللہ عزوجل اس با ت پر قا در ہے کہ اس کے قرض خواہ کو اپنے پسندیدہ انعامات کے ذریعے راضی کر دے اور مرنے والے کی مغفرت فرمادے اور جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارا دہ نہیں رکھتا ہے پھر وہ اسے ادا کئے بغیر مرگیا تو اس سے پوچھا جائے گا ،کیا تو یہ گمان کرتا تھا کہ ہم فلا ں کو تجھ سے اس کا پورا حق لے کر نہ دیں گے؟ پھر اسکی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں لے لی جائیں گی اور قر ض خواہ کی نیکیوں میں قرض کے بدلے کے طور پر ڈال دی جا ئیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیا ں نہ ہوئیں تو قرض خواہ کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں ڈال دیئے جائیں گے ۔''
 ( التر غیب والترہیب، کتاب البیوع ، باب الترہیب من الدین، رقم ۱۲ ،ج ۲ ،ص ۳۷۲)
(۶۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو اس حالت میں مرگیا کہ اس پر ایک دینار یاایک درہم کاقر ض ہو تو وہ قرض اس کی نیکیوں میں سے وصول کیاجائے گاکیونکہ قیامت کے دن درہم و دینار نہیں ہوں گے۔''
  (ابن ماجہ ،کتا ب الصدقات، با ب التشد ید فی الدین ،رقم ۲۴۱۴، ج ۳، ص ۱۴۵)
     ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' قرضدا ر دو طرح کے ہیں ،پہلا وہ جو مرگیا لیکن ادائے قرض کی نیت رکھتا تھا تواس کاولی میں ہوں ،دوسرا وہ جو مرگیا لیکن قر ض ادا کرنے کی نیت نہیں رکھتا تھا تو یہ وہی شخص ہے جس کی نیکیاں لے لی جائیں گی کیونکہ اس دن درہم ودینار نہیں ہوں گے۔''
(الترغیب والترہیب ،کتا ب البیوع، با ب الترہیب من الدین الخ ،رقم ۱۳، ج ۲، ص ۳۷۳)
(۶۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ جس نے قرض لیااور دل میں اسے ادا کرنے کی
Flag Counter