| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جس نے لوگوں سے مال لیا اور اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ عزوجل اسکی طر ف سے ادا فرمادے گا اور جس نے لوگوں سے مال لیا اور وہ اسے اداکرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اسے ضائع کر دے گا ۔''
(بخاری ،کتا ب الاستقرا ض، با ب من اخذا موال الناس، رقم ۲۳۸۷ ،ج ۲،ص ۱۰۵)
(۶۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدتنا اُمُّ المومنین مَیْمُونَہ رضی اللہ عنہاکثرت سے قرض لیا کر تی تھیں ۔ان کے گھر والو ں نے انہیں اس معاملہ میں ملامت کی اور ان پر نا راض ہوئے تو آ پ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ،''میں قر ض لیناہرگز نہ چھوڑوں گی کیونکہ میں نے اپنے خلیل اور مخلص رفیق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے،'' کہ جو کسی سے قر ض لیتا ہے اوردل میں وہ قر ض ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اسکی طر ف(۶۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدتنا اُمُّ المومنین مَیْمُونَہ رضی اللہ عنہاکثرت سے قرض لیا کر تی تھیں ۔ان کے گھر والو ں نے انہیں اس معاملہ میں ملامت کی اور ان پر نا راض ہوئے تو آ پ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ،''میں قر ض لیناہرگز نہ چھوڑوں گی کیونکہ میں نے اپنے خلیل اور مخلص رفیق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے،'' کہ جو کسی سے قر ض لیتا ہے اوردل میں وہ قر ض ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اسکی طر ف سے دنیا ہی میں قر ض ادا فرمادے گا ۔'' سے دنیا ہی میں قر ض ادا فرمادے گا ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ، کتا ب البیوع، باب الدیوف، رقم ۱۹ ۵۰،ج۷، ص ۲۴۹)
(۶۷۱)۔۔۔۔۔۔ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کثرت سے قرض لیا کرتی تھیں ۔آپ رضی اللہ عنہا سے کہاگیا''آپ قرض کس لئے لیتی ہیں حالا نکہ آپ کو اسکی ضرورت نہیں ؟'' آپ نے فر مایا،'' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ''جو ادائے قر ض کی نیت رکھتاہو اللہ عزوجل کی طرف سے اسکی مدد کی جا تی ہے۔'' تو میں ا س مدد کی طلب گار ہوں۔''
ایک روایت میں یہ اضا فہ ہے کہ اللہ عزوجل کی طرف سے اسکی مد د کی جا تی ہے اوراللہ عزوجل اس بندے کے لئے رزق کا سبب پیدا فرمادیتا ہے ۔ ''(مسند احمد، رقم ۲۴۴۹۳، ج ۹، ص ۳۴۶)
(۶۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' اللہ عزوجل قرض کی ادا ئیگی تک قر ض لینے والے کے ساتھ ہوتاہے جب تک وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی نہ کرے۔''
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما اپنے خا زن سے فرمایا کرتے کہ جا ؤ میرے لئے قرض لے کر آؤ کیونکہ جب سے میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے میں پسند کرتا ہو ں کہ میں اس حال میں رات گزارو ں کہ اللہ عزوجل میرے ساتھ ہو۔ ''(سنن ابن ماجہ، کتا ب الصدقات ، باب من اوان دینا وھو ینوعا، رقم ۲۴۰۹، ج ۳، ص ۱۴۳)