| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''تم سے پہلی امتوں کے ایک شخص کی روح سے فرشتو ں کی ملاقا ت ہوئی تو انہوں نے اس سے پوچھا ،''کیا تو نے کوئی اچھا کام کیاہے ؟'' اس نے جواب دیا،'' نہیں ۔'' فرشتو ں نے کہا ،''یا د کرو۔'' اس نے کہا ،''میں لوگو ں کوقرض دیا کرتا تھااور اپنے خا دم سے کہہ دیاکرتا تھاکہ تنگ دست کو مہلت دیا کرو اور مالدا ر سے چشم پوشی کرو ۔''تو اللہ عزوجل نے فرمایا،'' اسے معاف کردو ۔''
ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص کاانتقال ہوا تو اسے جنت میں داخل کردیا گیا ۔اس سے پوچھا گیا،''تو کیا عمل کرتا تھا؟'' تو اس نے یا د کیا یااسے یاد دلایاگیا تو اس نے کہا ،'' میں لوگو ں کے سا تھ خر ید وفروخت کیاکرتا تو تنگدست کو مہلت دیتا اور درہم ودینار یا نقدی میں نرمی کیاکرتا تھا ۔''(مسلم ،کتا ب المساقاۃ ،با ب فضل انظارالمعسر، رقم ۱۵۶۰ ،ص ۸۴۴ )
(۶۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' ایک شخص لوگو ں کو قر ض دیا کرتا تھا اور اپنے خادم سے کہتا ہےکہ جب تم کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اس سے چشم پوشی کیاکرو شاید کہ اللہ عزوجل ہمیں معا ف فرمادے تو جب وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوا تواللہ عزوجل نے اسے معا ف فرمادیا ۔''
ایک روایت میں ہے کہ رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''ایک شخص جس نے کبھی کوئی اچھا عمل نہ کیا تھا ،لوگو ں کوقرض دیا کرتا تو اپنے قا صد سے کہا کرتا ''قرض دار جوکچھ آسانی سے دے اسے لیاکرو او رجس میں قر ضدا ر کودشواری ہواسے چھوڑدیاکرواور چشم پوشی کرو شاید اللہ عزوجل ہمیں معا ف فرمادے۔'' جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ عزوجل نے اس سے فرمایا،'' کیا تو نے کبھی کوئی اچھا عمل کیا ؟ ''تو اس نے عرض کیا،'' نہیں، مگر میرا ایک غلام تھا اورمیں لوگو ں کو قر ض دیا کرتا تھا، جب میں اسے قر ض کا تقا ضا کرنے کے لئے بھیجتا تو اسے کہتا جو آسانی سے ملے وہ لے لواور جس میں قر ضدا ر کو دشواری ہو اسے چھوڑدواور چشم پوشی کرو، شاید اللہ عزوجل ہم سے چشم پوشی فرمائے ۔'' تو اللہ عزوجل نے اس سے فرمایا ،''بے شک میں نے تجھے معاف کردیا ۔''(سنن النسائی، کتا ب البیوع ،با ب حسن المعاملۃ والرفق فی المطالبۃ ،ج۷،رقم ۱۵۶۲ ،ص ۸۴۵ )