| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے تنگ دست کو اس کی کشادگی تک مہلت دی اللہ عزوجل اسے اپنے گناہ سے تو بہ کر نے تک کی مہلت عطا فرمائے گا ۔''
(مجمع الزوائد، کتاب البیوع ،رقم ۶۶۷۵،ج ۴، ص ۲۴۲ )
(۶۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا شدَّاد بن اَوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جس نے تنگ دست کومہلت دی یا اپنا قر ض اس پر صدقہ کردیا ،اللہ عز وجل قیامت کے دن اسے (اپنے عرش) کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر ،رقم ۶۶۷۱ ،ج ۴، ص ۲۴۱)
(۶۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو قَتَادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایک قر ضد ار کو بلایاتو وہ چھپ گیا ۔پھر جب آپ کی اس سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگا،'' میں تنگدست ہوں۔'' تو آپ نے پوچھا،''کیا تم اس بات پر اللہ عزوجل کی قسم کھا سکتے ہو ؟''اس نے کہا ،''میں اللہ عزوجل کی قسم کھا تا ہو ں۔''یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، '' جسے یہ پسند ہو کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجا ت عطا فرمائے تواسے چاہيے کہ تنگدست کی پریشانی دور کرے یا اس کے قرض میں کمی کردے ۔''
(مسلم، کتا ب المساقاۃ ،با ب فضل انظار المعسر ، رقم ۱۵۶۳، ص ۸۴۶)
(۶۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حُذَیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بارگا ہِ الٰہی عزوجل میں ایک ایسے بندے کو پیش کیا جا ئے گا جسے (دنیا میں )کثیر مال سے نوازا گیا تھا ۔ اللہ عزوجل اس سے دریافت فرما ئے گا،''تو نے دنیامیں کیا کیا ؟ '' پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَلَا یَکْتُمُوۡنَ اللہَ حَدِیۡثًا ﴿٪42﴾
ترجمہ کنز الایمان: اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔(پ5،النساء :42)
(پھر فرمایا)،''تووہ عر ض کریگا ،''اے میرے رب عزوجل! تو نے دنیا میں مجھے مال عطا فرمایا تھا اور میں لوگوں کے ساتھ خرید وفروخت کیا کرتا تھا ، لوگو ں سے نرمی برتنا میری عا دت تھی لہذا میں مالدار کے لئے آسانی کرتا اور تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا ۔''تو اللہ تعالی فرمائے گا،'' میں اس با ت (یعنی نرمی)کاتجھ سے زیادہ حقدا ر ہوں۔'' پھر فرشتوں سے فرمائے گا ،''میرے اس بندے سے چشم پوشی کرو ۔'' حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن اقد س سے اسی طر ح سنا ہے۔(مسلم ،کتا ب المساقاۃ ،با ب فضل انظارالمعسر،رقم ۱۵۶۰ ،ص ۸۴۴ )