| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،''جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اس کے لئے ہر روز اس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے۔'' پھر میں نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، ''جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا۔'' میں نے عر ض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اس کے لئے ہر روزاس قر ض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ''تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''اسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گا،اور جب ادائیگی کا وقت ہوگیا پھر اس نے قر ضد ار کو مہلت دی تو اسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔''
ایک روایت میں ہے کہ'' جس نے قر ض کی ادا ئیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے رو زانہ اتنامال صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا اور جس نے وقتِ ادائیگی کے بعد مہلت دی اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثوا ب ملے گا ۔''(مجمع الزوائد، کتاب البیوع، با ب فی من فر ج عن معسر، رقم ۶۶۷۶، ج ۴ ،ص ۲۴۲)
(۶۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جواس بات کو پسند کرتا ہے کہ اسکی دعائیں قبول ہوں اور پر یشا نیاں دور ہوں تو اسے چاہیے کہ تنگدست کومہلت دیاکرے ۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب البیوع ،با ب فی من فرج عن معسر، رقم ۶۶۶۴،ج۴ ،ص ۲۳۹)
(۶۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم مسجد میں تشریف لائے تو زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے،'' جس نے تنگدست کو مہلت دی یااس کے قر ض میں کمی کی اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے بچا ئے گا ۔''
(مجمع الزوائد، کتاب البیوع ،با ب فی من فر ج عن معسر، رقم ۶۶۶۶، جلد ۴، ص ۲۴۰)
ایک روایت میں ہے کہ'' رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے کہ'' تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے بچا ئے ؟'' ہم نے عر ض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سب اسے پسند کرتے ہیں۔''توآپ نے ارشاد فرمایا،'' جس نے تنگد ست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل اسے جہنم کی گرمی سے بچائے گا ۔''