وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍ ؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿280﴾
ترجمہ کنزالایمان :اوراگر قر ضدار تنگی والا ہے تواسے مہلت دوآسانی تک اور قر ض اس پر بالکل چھوڑدینا تمہارے لیے اوربھلاہے اگر جانو۔'' (پ 3، البقرۃ: 280) (۶۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جس نے مو من کی دنیاوی پریشانیوں میں سے ایک پریشا نی دور کی،اللہ عزوجل قیامت کے دن کی پریشانیو ں میں سے اسکی ایک پریشانی دور فرمائے گا،۔۔۔۔۔۔جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کریگا، اللہ عزوجل دنیا وآخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا،۔۔۔۔۔۔ جو دنیامیں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کریگا، اللہ عزوجل دنیا وآخرت میں اسکی پردہ پوشی فرمائے گا،۔۔۔۔۔۔ اور اللہ عزوجل اسوقت تک بندے کی مد دکرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مد د کرتا رہتا ہے ۔ '' (
مسلم ،کتا ب الذکر والدعا، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القران ،رقم ۲۶۹۹ ،ص ۱۴۴۷)
(۶۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جس نے تنگد ست کو مہلت دی یااس کے قرض میں کمی کی، اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن اپنے عر ش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔''
(ترمذی، کتا ب البیوع، با ب ماجاء فی انظار المعسر، رقم ۱۳۱۰، ج۳ ،ص ۵۲)
(۶۵۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو یَسَر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کرفرمایا کہ میری ان آنکھوں نے دیکھا پھر اپنے کانو ں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میرے ان کانو ں نے سنا پھر اپنے دل کی طر ف اشا رہ کر کے فرمایا کہ میرے دل نے اسے یاد کرلیا کہ رحمتِ عالم ،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' جس نے تنگد ست کو مہلت دی یا اس کے قر ض میں کچھ کمی کی تو اللہ عزوجل اسے اپنے( عر ش کے) سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔''
(المستدرک ،کتاب البیوع ، باب من انظر معسراالخ، رقم۲۲۷۱،ج۲، ص ۳۲۶ )
(۶۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو یَسَر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرما تے ہوئے سناکہ'' بے شک قیامت کے دن اللہ عزوجل کے عرش کے سائے میں سب سے پہلے جگہ پانے والا وہ شخص ہوگا جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی تاکہ وہ قر ض کی ادا ئیگی کے لئے کچھ پالے یا اپنا قرض معاف کردیا اور کہا کہ میرا مال تم پر اللہ عزوجل کی رضا کے لئے صدقہ ہے اور اُس قرض کی رسید کو پھاڑدے ۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب البیوع، با ب فی من فرج من معسر، رقم ۶۶۷۰،ج ۴، ص ۲۴۱ )